دوسری فصل

اتابکان (خوازرم شاہیہ)

بلگاتگین غزنوی کا ایک ترکی غلام انوشتگین تھا جو سلطان ملک شاہ سلجوقی کا آب دار ہو گیا تھا‘ اس کو ملک شاہ نے خوارزم یعنی خیوا کا حاکم مقرر کیا تھا‘ اس کے بعد اس کا جانشین اس کا بیٹا ہوا‘ جس کا نام خورازم شاہ تھا‘ اس نے اپنی حکومت کو ترقی دی‘ دریائے جیحوں کے کنارے تک اپنی حکومت کو وسعت دے کر خراسان و اصہفان کو بھی فتح کر لیا‘ خوارزم شاہ کے بیٹے علاء الدین محمد نے ۶۰۷ھ میں بخارا و سمرقند بھی فتح کر لیا‘ ۶۱۱ھ میں افغانستان کے ایک بڑے حصہ کو غزنین تک فتح کر لیا‘ پھر اس نے شیعہ مذہب اختیار کر کے یہ ارادہ کیا کہ خلافت عباسیہ کو بیخ و بن سے اکھیڑ کر نیست و نابود کر دے‘ ابھی اس ارادے میں کامیاب نہ ہونے پایا تھا کہ چنگیز خان نے حملہ کر کے اسے اپنی طرف متوجہ کر لیا‘ آخر مغلوں نے اس کی خوب پریشان کیا اور وہ ان کے سامنے سے بھا گتا اور فرار ہوتا پھرا‘ آخر بحیرہ قزوین کے ایک جزیرے میں ۶۱۷ھ میں مر گیا۔ اس کے تین بیٹے تھے‘ وہ بھی باپ کے بعد مغلوں کے آگے آگے بھاگتے پھرے‘ ایک بیٹا جلال الدین خوارزمی بھاگ کر ہندوستان بھی آیا اور دو برس ہندوستان میں رہ کر پھر واپس چلا گیا‘ آخر ۶۲۸ھ میں مغلوں نے اس خاندان کا خاتمہ کر دیا‘ خوارزم شاہیوں کی حکومت ۴۷۰ھ سے ۶۲۸ھ تک رہی‘ مگر بارہ سال اس سلطنت پر ایسے عروج کے گذرے کہ وہ سلطنت سلجوق کی ہم پلہ سمجھی جاتی تھی۔