دوسری فصل

سلطنت جلائرہ عراق

مغلوں یعنی تاتاریوں کی حکومت کو زوال آیا تو مغلوں کے فوجی سرداروں نے جابجا اپنی حکومتیں قائم کر لیں‘ منجملہ ان کے خاندان جلائر نے ۷۳۶ھ سے ۸۱۴ھ تک عراق میں حکومت کی‘ ان کا دارالسلطنت بغداد تھا‘ اس خاندان کی حکومت کا بانی شیخ حسن بزرگ جلائر تھا‘ اس کا بیٹا اویس خان ۷۵۷ھ میں اپنے باپ کی وفات پر تخت نشین ہوا‘ اس نے آذربائیجان اور تبریز کو ترکمانوں سے ۷۵۹ھ میں چھین لیا اور ۷۶۶ھ میں موصل اور دیار بکر کو بھی اپنی حکومت میں شامل کیا‘ ۷۸۴ھ میں اس کا انتقال ہوا تو کردستان اس کے بیٹے بایزید کو ملا اور عراق و آذربائیجان وغیرہ پر اس کے دوسرے بیٹے سلطان احمد جلائر کی حکومت قائم ہوئی۔ ۷۹۶ھ میں تیمور نے سلطان احمد جلائر کا تمام ملک فتح کر لیا اور احمد جلائر بھاگ کر مصر چلا گیا‘ وہاں مملوک سلطنت میں کئی سال پناہ گزیں رہنے کے بعد جب کہ تیمور سمرقند کی طرف واپس گیا‘ احمد جلائر پھر آ کر اپنی مملکت قدیمہ پر قابض ہو گیا‘ ۸۱۳ھ میں احمد جلائر قرا یوسف ترکمان کی لڑائی میں مارا گیا اور اس کا بھتیجا شاہ ولد بغداد میں تخت نشین ہوا‘ آخر ۸۱۴ھ میں اس کا قراقونلی ترکمانوں نے خاتمہ کر دیا۔