امیران اندلس
امیر عنبسہ کی شہادت
امیر عنبسہ نے بداحتیاطی سے اپنے آپ کو خطرہ میں ڈال دیا یعنی صف قتال میں سب سے آگے بڑھ کر عیسائیوں پر بذات خود حملہ کیا اور عیسائی صفوف کو چیرتے ہوئے اندر گھس کر جام شہادت نوش کیا۔
جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جنگ طولوز کی طرح اس مرتبہ بھی مسلمانوں کو پسپا ہونا پڑا‘ امیر عنبسہ نے اپنی شہادت سے پہلے ہی عروہ بن عبداللہ فہری کو اپنا قائم مقام تجویز کر دیا تھا لہٰذا جس طرح امیر سمح کی شہادت کے بعد عبدالرحمن غافقی مسلمانوں کو لے کر واپس آئے تھے اسی طرح عروہ بن عبداللہ فہری لشکر اسلام کو واپس اندلس میں لایا۔
یہ واقعہ ۱۰۷ھ میں وقوع پذیر ہوا۔