امیران اندلس
ثعلبہ بن سلامہ باردوم
ماہ رجب ۱۲۹ھ میں ثعلبہ بن سلامہ نے عنان حکومت اپنے ہاتھ میں لی اور ضمیل بن حاتم چونکہ اس کا دوست اور قابو یافتہ تھا وہ مہمات امارت کے انجام دینے میں سب سے زیادہ دخیل اور بطور وزیر رہا‘ ثعلبہ بھی چوں کہ یمنی تھا‘ اس لیے ضمیل بن حاتم نے کوشش کر کے یمنی اور دوسرے عرب قبائل میں صلح کرا دی‘ چند ہی روز کے بعد ثعلبہ بن سلامہ کا انتقال ہو گیا‘ اہل اندلس چونکہ پہلے ہی سے اپنے لیے خود امیر منتخب کر لینے کے عادی تھے جیسا کہ چند امیروں کا ذکر اوپر آ چکا ہے‘ آج کل چونکہ مرکز خلافت میں بدنظمی تھی اس لیے انہوں نے اپنی امارت کے لیے خود کسی شخص کا انتخاب کر لینے میں تامل نہیں کیا اور یوسف بن عبدالرحمن فہری کو جس کا اوپر ذکر آ چکا ہے اپنا امیر بنا لیا‘ یوسف کی پرانی خدمات‘ اور شہرت نے اس کی سفارش کی اور کسی کو اس انتخاب میں تامل نہ ہوا۔