امیران اندلس
یوسف بن عبدالرحمن فہری
چونکہ ملک اندلس کا مرکز خلافت سے آج کل کوئی خصوصی تعلق نہ رہا تھا‘ نیز یہاں ہر قوم اور ہر قبیلے کے مسلمان آباد تھے اس لیے چند ہی روز کے بعد اندلس میں کشمکش اور ہلچل سی پیدا ہونے لگی‘ یوسف بن عبدالرحمن نے ضمیل بن حاتم کو جو سب سے زیادہ طاقتور شخص تھا‘ اور یوسف کے انتخاب پر دل ہی دل میں کبیدہ خاطر معلوم ہوتا تھا‘ صوبہ طیطلہ کا حاکم بنا دیا عیسائیوں نے صوبہ اربونیہ کے حاکم عبدالرحمن بن علقمہ کو بغاوت پر ابھار دیا‘ مگر عبدالرحمن بن علقمہ قبل اس کے کہ مخالفت کے لیے نکلے قتل کر دیا گیا‘ اس کے بعد دوسرے صوبہ دار ابن الولید کو عیسائیوں نے ابھارا اور ایک بڑی تعداد عیسائیوں کی اس کے جھنڈے کے نیچے جمع ہو گئی‘ چنانچہ اس نے شہر شبیلیہ کو فتح کر کے قرطبہ کا رخ کیا‘ امیر یوسف نے مقابلہ کر کے اس کو شکست دی اور گرفتار کر کے قتل کر ڈالا‘ اس کے بعد ایک اور سردار عمر بن عمرو نے علم بغاوت بلند کیا‘ وہ بھی ناکام رہا۔