خلفائے اندلس
عبدالرحمن اندلس میں
بدر نے اندلس میں پہنچ کر ابوعثمان اور عبداللہ بن خالد سے ملاقات کی اور نہایت قابلیت کے ساتھ ان کو اپنی خواہش کے موافق آمادہ کر لیا‘ ابوعثمان نے شامی اور عربی سرداروں کو جمع کر کے یہ مسئلہ ان کے سامنے پیش کیا اور وہ سب شہزادہ عبدالرحمن کو اندلس بلانے اور اس کی مدد کرنے کے لیے آمادہ ہو گئے بدر کو جیسا کہ اوپر بیان ہو چکا ہے اپنے گیارہ آدمیوں کے ہمراہ ایک کرایہ کا جہاز لے کر سبطہ کی جانب روانہ کیا کہ شہزادہ عبدالرحمن کو ہماری طرف سے اطمینان دلائو اور جس قدر جلد ممکن ہو سکے یہاں لے آئو‘ یہ بھی ایک خوش قسمتی کی بات تھی کہ یہ لوگ جو بنو امیہ کے ہمدرد ہو سکتے تھے زیادہ تر اندلس کے جنوبی و مشرقی ساحل کے قریب آباد تھے اس لیے عبدالرحمن کو اندلس پہنچنے میں اور بھی آسانی ہوئی‘ اندلس سے آنے والا یہ جہاز جس میں بدر مع اندلس کے آدمیوں کے آ رہا تھا جب ساحل سبطہ کے قریب پہنچا ہے تو اس وقت عبدالرحمن نماز پڑھ رہا تھا‘ یہ لوگ جہاز سے اتر کر بدر کی رہبری میں عبدالرحمن کے سامنے گئے‘ سب سے پہلے اندلس کے گیارہ آدمیوں کے امیر وفد ابوغالب التمام نے آگے بڑھ کر عبدالرحمن کو سلام کیا اور کہا کہ اہل اندلس آپ کے منتظر ہیں‘ عبدالرحمن نے اس کا نام دریافت کیا‘ جب نام سنا تو عبدالرحمن خوش ہو گیا اور جوش مسرت میں بے اختیار کہہ اٹھا کہ ہم ان شاء اللہ تعالیٰ ضرور غالب ہوں گے‘ اس کے بعد عبدالرحمن نے مطلق تامل نہیں کیا‘ فوراً جہاز میں سوار ہو گیا اپنے چند جاں نثاروں کو جو سبطہ میں موجود اور اس سے محبت و ہمدردی کا تعلق رکھتے تھے ہمراہ لیا اور اندلس کے ساحل پر جا اترا‘ وہاں پہلے سے ہزار ہا لوگ استقبال کے لیے موجود تھے جیسا کہ اوپر ذکر آ چکا ہے۔