خلفائے اندلس
قرطبہ پر عبدالرحمن کا قبضہ
عبدالرحمن کے اندلس میں پہنچتے ہی ہوا خواہان بنو امیہ اور اہل شام سن سن کر دوڑے اور عبدالرحمن کی اطاعت و فرماں برداری کے حلف اٹھائے‘ اس کے بعد ارد گرد کے شہروں اور قصبوں پر قبضہ شروع ہوا موسم برسات کے آ جانے کے سبب یوسف جلد قرطبہ کی طرف نہ آ سکا‘ اس لیے عبدالرحمن کو یوسف کی فیصلہ کن جنگ کے لیے سات مہینے کی مہلت مل گئی‘ آخر عیدالاضحیٰ کے روز لڑائی ہوئی اور دار السلطنت قرطبہ پر عبدالرحمن کا قبضہ ہوا۔
جب اس لڑائی میں فتح حاصل ہوئی تو یمنی لوگوں کے ایک سردار ابوالصباح نامی نے اپنے قبیلہ کے لوگوں کو مخاطب کر کے کہا کہ یوسف سے ہم بدلہ لے چکے ہیں‘ اب موقعہ ہے کہ اس آدمی نوجوان یعنی عبدالرحمن کو قتل کر دو اور بجائے اس کے یہاں امویوں کی حکومت قائم ہو اپنی قوم کی حکومت قائم کرو‘ مگر چوں کہ عبدالرحمن کے لشکر میں شامیوں اور بربریوں کی تعداد کافی تھی اس لیے علانیہ یمنی لوگ کوئی مخالفت یا بغاوت نہ کر سکے اور خاموش ہو کر خفیہ طور پر عبدالرحمن کی ذات پر حملہ کرنے کی تدبیر سوچنے لگے‘ اتفاق سے عبدالرحمن کو بھی ان لوگوں کے ارادے کا حال معلوم ہو گیا اس نے صرف یہ کیا کہ اپنا ایک باڈی گارڈ یعنی محافظ دستہ قائم کر لیا اور بظاہر چشم پوشی اور در گذر سے کام لیا اور چند مہینے کے بعد ابوالصباح کو اس کی کسی غلطی کی سزا میں قتل کرا دیا۔