خلفائے اندلس

تخت نشینی

۳۲ یا ۳۳ سال کی عمر میں اپنے باپ کی وصیت کے موافق ۱۷۲ھ میں تخت نشین ہوا‘ جس وقت عبدالرحمن بن معاویہ کا انتقال ہوا ہے تو ہشام شہر مریدہ میں بطور گورنر موجود تھا‘ وہیں اپنے باپ کی وفات کا حال سن کر تخت نشین ہوا۔ اور عام طور پر ملک اندلس میں اس کے نام کا خطبہ پڑھا گیا‘ قرطبہ میں اس کا بھائی عبداللہ موجود تھا‘ اس نے باپ کے بعد محل سرائے شاہی اور دارالسلطنت قرطبہ پر ہشام کے خلاف قبضہ کر لیا‘ ادھر صوبہ طیطلہ کا گورنر اس کا بھائی سلیمان تھا‘ ہشام مریدہ سے قرطبہ کی جانب متوجہ ہوا‘ اور معمولی سے مقابلہ کے بعد عبداللہ کو گرفتار کر کے قرطبہ پر قابض ہوا اور دوبارہ رسم تخت نشینی ادا کی‘ اس موقعہ پر اس نے اپنے بھائی عبداللہ کی خطا معاف کر کے اس کو اپنے مشیروں اور وزیروں میں شامل کر لیا اور اس کی بڑی جاگیر مقرر کر دی۔