خلفائے اندلس

بھائیوں کی بغاوت

ملک اندلس میں اگرچہ متضاد عناصر کے لوگ آباد تھے اور اس موقعہ پر کہ امیر عبدالرحمن فوت ہو گیا تھا‘ ملک کے اندر بغاوتیں پیدا ہو سکتی تھیں‘ مگر امیر عبدالرحمن نے اپنی زندگی ہی میں سرکشوں کو اس طرح زیر کر دیا تھا کہ وہ اب اس قابل ہی نہ رہے تھے کہ سر اٹھائیں‘ مگر بجائے ان غیر کف باغیوں کے خود ہشام کے بھائیوں نے علم بغاوت بلند کر کے سلطان ہشام کے عنوان سلطنت ہی میں مشکلات پیدا کر دیں اور بہت جلد لوگوں کو معلوم ہو گیا کہ امیر عبدالرحمن نے اپنے ولی عہد کے انتخاب میں مطلق غلطی نہیں کی تھی‘ سلیمان نے جو طیطلہ کا گورنر تھا بغاوت اور اپنی خود مختاری کا اعلان کیا‘ ادھر عبداللہ بھی قرطبہ سے بھاگ کر اپنے بھائی سلیمان کے پاس پہنچ گیا‘ سلطان ہشام نے ان دونوں بھائیوں کی سرکشی کا حال سن کر درگذر سے کام لیا اور سمجھا کہ چند روز کے بعد یہ خود ہی راہ راست پر آ جائیں گے۔