خلفائے اندلس

مخالفت کے شعلے قصر سلطانی تک

ایک روز ایسا اتفاق ہوا کہ عجمی اور ایک مالکی صیقل گر میں کسی بات پر ہشت مشت کی نوبت پہنچ گئی۔ شہر والے بالخصوص شہر کے جنوبی محلہ والے جو وادی الکبیر کے درسری جانب آباد تھے اور سب کے سب مالکی مذہب کے پیرو تھے اٹھ کھڑے ہوئے۔ سب نے مل کر قصر سلطانی پر حملہ کیا اور سلطان حکم کی معزولی کا اعلان کر دیا اور بھی واقعہ پسند لوگ ان کے ساتھ شامل ہو گئے۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ سرائے سلطانی کے دروازے کو توڑ کر اندر گھس گئے اور قصر سلطانی کے محافظ دستے کو قتل کرتے اور پیچھے ہٹاتے ہوئے دوسری ڈیوڑھی پر پہنچ گئے تمام قصر سلطانی میں ایک تلاطم اور گھبراہٹ پیدا ہو گئی۔ سلطان حکم نے اپنے خدمت گار حسن نامی کو آواز دی اور کہا کہ سر میں لگانے کا خوشبودار تیل لائو۔ خدمت گار نے تیل حاضر کیا۔ سلطان نے سر میں لگایا۔ حسن نے جرأت کر کے پوچھا کہ اس وقت سخت خطرہ کا مقام ہے۔ باغیوں نے سرائے سلطانی کے کواڑوں کو آگ لگا دی ہے اور لوگوں کو قتل کرتے اور مارتے ہوئے بڑھے چلے آتے ہیں اور آپ کو تیل لگانے اور اپنی زینت کرنے کی سوجھی ہے۔ سلطان نے جواب دیا کہ احمق اگر میں اپنے بالوں میں خوشبودار تیل نہ لگائوں تو باغیوں کو میرا سر کاٹتے وقت یہ کیسے معلوم ہو سکے گا کہ یہ بادشاہ کا سر ہے۔