خلفائے اندلس

سلطان حکم کی حاضر دماغی

اس حکایت کو مؤرخین نے اس بات کے ثبوت میں نقل کیا ہے کہ سلطان حکم سخت سے سخت پریشانی اور گھبراہٹ کے موقعہ پر بھی مستقل مزاج رہتا اور حواس باختہ نہیں ہوتا تھا۔ اس کے بعد سلطان نے اپنے چچا زاد بھائی اصبح کو بلا کر حکم دیا کہ جس طرح ممکن ہو تو اپنے آپ کو باغیوں کے اس محاصرے سے باہر نکالو اور فوراً وادی الکبیر کے اس طرف جا کر جنوبی محلہ میں آگ لگا دو۔ اصبح نے اس حکم کی تعمیل کی اور ایک چور دروازہ کے ذریعہ اپنے آپ کو باغیوں کے محاصرے سے نکال لینے میں کامیاب ہو کر اور چند ہمراہیوں کو ساتھ لے کر قرطبہ کی ایک نواحی چھائونی میں خبر بھیجی کہ فوراً مسلح ہو کر جنوبی محلہ میں پہنچو اور خود وہاں پہنچ کر متعدد مکانات میں آگ لگا دی۔ اتنے میں چھائونی سے فوج بھی وہاں پہنچ گئی۔ قصر سلطانی کا محاصرہ کرنے والے باغیوں نے جب آگ کے شعلے اور دھوئیں کے بادل جنوبی محلہ سے اٹھتے ہوئے دیکھے تو وہ لوگ جو اس محلہ میں رہتے تھے اور وہی زیادہ تعداد میں اور اس بغاوت کے سرغنہ بھی تھے۔ اپنے مکانوں کو بچانے کے لیے اس طرف دوڑے اور فوراً قصر سلطانی باغیوں سے خالی ہو گیا۔ سلطان حکم نے اس مناسب موقعہ سے فائدہ اٹھانے میں مطلق کوتاہی نہیں کی فوراً اپنے محافظ دستے کو لے کر ان باغیوں کے پیچھے قصر سے روانہ ہوا ادھر سے اصبح بن عبداللہ نے ادھر سے سلطان حکم نے حملہ کر کے ان باغیوں کو خوب قتل کیا اور پھر قتل کی ممانعت کا حکم دے کر باغیوں کی گرفتاری کا حکم دیا۔ بہت جلد چھائونیوں سے فوجیں بھی آگئیں اور ہزارہا باغی گرفتار کر لیے گئے۔