Surah Introduction

بصیرتِ قرآن

Baseerat-e-Quran · 12. Yusuf · Ayah 23

  1. وَ رَاوَدَتْهُ الَّتِیْ هُوَ فِیْ بَیْتِهَا عَنْ نَّفْسِهٖ وَ غَلَّقَتِ الْاَبْوَابَ وَ قَالَتْ هَیْتَ لَكَ١ؕ قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اِنَّهٗ رَبِّیْۤ اَحْسَنَ مَثْوَایَ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ﴿23﴾

    1. وَرَاوَدَتْهُاور اسے پھسلایا
    2. الَّتِيْوہ عورت جو
    3. هُوَاس
    4. فِيْمیں
    5. بَيْتِهَااس کا گھر
    6. عَنْ نَّفْسِهٖاپنے آپ کو روکنے سے
    7. وَغَلَّقَتِاور بند کردئیے
    8. الْاَبْوَابَدروازے
    9. وَقَالَتْاور بولی
    10. هَيْتَ لَكَآ جا جلدی کر
    11. قَالَاس نے کہا
    12. مَعَاذَ اللّٰهِاللہ کی پناہ
    13. اِنَّهٗبیشک وہ
    14. رَبِّيْٓمیرا مالک
    15. اَحْسَنَبہت اچھا
    16. مَثْوَايَاور رہنا سہنا
    17. اِنَّهٗبیشک
    18. لَا يُفْلِحُبھلائی نہیں پاتے
    19. الظّٰلِمُوْنَظالم (جمع)
Translation · Baseerat-e-Quran
اسے (یوسف کو) اس عورت نے اپنی طرف بہکانے کے لئے کا جس کے گھر میں وہ رہتا تھا اس نے دروازے بند کر لئے اور اس عورت نے کہا کہ ” آ جلدی کر “ (یوسف نے ) کہا کہ اللہ کی پناہ میرے رب نے مجھے اتنا بلند مقام اور ٹھکانہ عطا کیا ہے۔ بیشک جو ظالم ہیں وہ فلاح نہیں پاتے۔
Tafseer · Baseerat-e-Quran
لغات القرآن آیت نمبر 23 تا 29 راودت (اس نے بہکایا۔ پھسلایا) عن نفسہ (اپنے نفس سے۔ اپنی طرف ) غلقت (بند کردیئے ) ابواب (دروازے) ھیت لک (آ۔ اپنا کام ر) معاذ اللہ (اللہ کی پناہ) احسن (زیادہ بہتر) مثوا (ٹھکانا۔ مقام لایفلح (فلاح نہیں پاتا۔ کامیاب نہیں ہوتا) ھمت (ارادہ کیا (مونث) ھم (ارادہ کیا) لولات (اگر نہ ہوتا (حرف شرط ہے) ان را (یہ کہ دیکھا) برھان (دلیل ۔ نشانی) لنصرف (تاکہ ہم دور کردیں۔ پھیر دیں ) السوء (برائی ) الفحشاء (فحش ) بےحیائی کے کام المخلصین (خالص کرنے والے) استبقا (وہ دونوں آگے پیچھے دوڑے) فدت (پھاڑ دیا) (دبر) پیچھے۔ (پشت کے حصے کو دبر کہتے ہیں) الفیا (الفا (ماضی کا صیغہ) دونوں نے پایا سید (سردار۔ (یہاں شوہر مراد ہے) لدالباب (دروازے کے پاس) ماجزاء (کیا بدلہ ہے ؟ کیا سزا ہے ؟ ) اراد (ارادہ کیا) باھلک (لیری بیوی کے ساتھ) ان یسجن (یہ کہ اس کو قید کیا جائے) راودتنی (اس نے مجھے قابو کرنا چاہا شھد (گواہی دی اس نے (قد) پھٹا ہوا صدقت (اس عورت نے سچ کہا) قبل (آگے کا حصہ کذبت (اس نے جھوٹا کہا) کیدکن (مت عورتوں کا مکر و فریب ) اعرض (منہ پھیر لے۔ نظر انداز کر دے) استغفری (اے عورت تو) استغفار کر لذنبک (اپنے گناہ کے لئے) انک کنت (بےشک تو ہی ہے الخطئین (خطا کرنے والے) تشریح آیت نمبر 23 تا 29 دنیا میں طرح طرح کے حالات پیش آتے ہیں اچھے بھی اور برے بھی نیکی کے بھی اور برائی کے بھی۔ عزم و ہمت والے لوگ وہی ہوتے ہیں جو اچھے اور برے حالات میں نیکی پرہیز گاری اور حق و صداقت پر قائم رہتے ہیں کسی لالچ اور خوف سے نیکی اور سچائی کے دامن کو ہاتھ سے نہیں چھوڑتے۔ ایسے لوگوں کی غیب سے بھرپور مدد کی جاتی ہے اور اللہ ان کو بڑے سے بڑے حالات سے صاف نکال دیتا ہے۔ عزیز مصر نہایت محبت اور احترام سے حضرت یوسف کو اپنے گھر لے آیا اور ان سے غلاموں جیسا معاملہ کرنے کے بجائے گھر کے ایک فرد کی طرح ہر ایک آرام کا خیال رکھنے لگا۔ جب حضرت حضرت یوسف مصر کے گھر میں آئے تھے اس وقت بعض روایات کے مطابق ان کی عمر سات آٹھ سال کی تھی لیکن چند ہی سال میں وہ ایک خوبصورت ترین نوجوان بن کر ابھرنے لگے۔ اللہ نے کائنات میں جنتا بھی حسن پیدا کیا ہے اس میں سے آدھا حسن حضرت یوسف کو عطا فرمایا گیا تھا، حضرت یوسف جوان ہوتے گئے اور ان کا جمال اور خوبصورتی نکھرتی چلی گئی۔ عزیز مصر کی بیوی (بعض روایات کے مطابق) جس کا نام زلیخا آتا ہے وہ اس بھرپور اور شرم وحیات کے پیکر جوان پر مر مٹی اور اس نے نفس کے غلبہ کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے۔ ایک دن اس نے اپنے خصوصی کمرے میں حضرت یوسف کو بلایا ، دروازے بند کر لئے، اپنے اس بت پر جس کو وہ اپنا معبود کہتی تھی اس پر کپڑا ڈال کر اپنی بےتابی کا برملا اظہار کرتے ہوئے کہنے لگی کہ اے یوسف میرے قریب آؤ۔ حضرت یوسف نے اس کی نیت کو بھانپ کر اللہ کی پناہ مانگتے ہوئے کہا کہ میری مربی یعنی عزیز مصر نے مجھے عزت کا ٹھکانا دیا ہے میں اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا کہ احسان فراموشی کروں۔ اب اس عورت نے ترغیبات کے جال بچھا دیئے ادھر حضرت یوسف نے اس جال سے نکلنے کیلئے تدبیریں سوچنا شروع کردیں۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ اسی دوران اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف کو اپنی کوئی نشانی دکھائی تاکہ ان کو یقین ہوجائے کہ اللہ کی مدد شامل حال ہے او اس عورت کی ہر تدبیر ضائع ہوجائے گی۔ حضرت عبداللہ ابن عباس نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس تنہائی میں ان کے سامنے حضرت یعقوب کی صورت اس طرح ظاہر فرمائی کہ وہ اپنی انگلی دانتوں میں دبائے ہوئے ہیں اور ان کو تنبیہ فرما رہے ہیں۔ بعض مفسرین کا قول ہے کہ خود عزیز مصر کی صورت ان کے سامنے لائی گئی۔ بعض حضرات نے یہ بھی لکھا ہے کہ حضرت یوسف نے حالات کو اچھی طرح سمجھ لیا اور اللہ کی پناہ مانگتے ہوئے دروازے کی طرف دوڑنا شروع کردیا۔ اللہ نے مدد فرمائی اور دروازے کھلتے چلے گئے۔ اللہ کا یہ نظام ہے کہ جو بھی اس ذات پر بھروسہ کرتا ہے وہ اس کے لئے ہر طرح کی آسانیاں عطا فرما دیتا ہے۔ حضرت یوسف جب دوڑے تو اس عورت نے ان کو پیچھے سے پکڑنے کی کوشش کی اور ان کی قمیص کو تھام لیا جو پھٹ کر اس کے ہاتھ میں آگئی جیسے ہی حضرت یوسف آخری دروازے پر پہنچے تو آپ نے دیکھا کہ عزیز مصر سامنے کھڑا ہوا ہے زلیخا نے اپنی شرمندگی مٹانے کے لئے حضرت یوسف پر الزام لگادیا کہ اس نوجوان غلام نے عزیز مصر کی بیوی کی آبرو پر ہاتھ ڈالنا چاہا تھا۔ حضرت یوسف نے اپنی صفائی میں جو سچی بات تھی وہ کہنا شروع کردی کہ اس عورت کا بدی اور برائی کا ارادہ تھا۔ میں وہاں سے بھاگا اور باہر نکل آیا۔ عزیز مصر اسی کشمکش میں تھا کہ کسی سمجھ دار آدمی نے کہا اس بات کا فیصلہ ابھی ہوجاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر حضرت یوسف کا قمیص آگے سے پھٹا ہے تب تو یوسف کی خطا ہے اور اگر پیچھے سے پھٹا ہے تو یہ عورت گناہگار ہے۔ دیکھا یا تو قمیض پیچھے سے پھٹا ہوا تھا۔ عزیز مصر اس بات کی گہرائی تک پہنچ گیا اور اس کے منہ سے نکل گیا کہ بیشک یہ اس عورت کا مکر و فریب ہے اور عورتوں کا مکر و فریب بہت گہرا ہوتا ہے۔ اس نے حضرت یوسف سے کہا کہ یوسف تم اس واقعہ کو نظر انداز کر دو ۔ اپنی بیوی سے کہا کہ تم اپنی خطا اور گناہ سے پناہ مانگ بلاشبہ یہ سب کی سب تیری خطا ہے۔ عزیز مصر نے اگرچہ ساری بات کو سمجھ لیا تھا اور فیصلہ بھی دیدیا تھا لیکن اس بات کی جب کچھ شہرت ہوگئی اور زلیخا پر الزام لگائے جانے لگے تو عزیز مصر نے اپنے گھر کی عزت بچانے کے لئے حضرت یوسف کو جیل بھیج دیا تاہ دنیا کی نظروں میں شاہی وقار قائم رہے اور یوسف کو قصور وار سمجھا جائے۔ اس کی تفصیل اگلی آیات میں آرہی ہے۔