Surah Introduction

بصیرتِ قرآن

Baseerat-e-Quran · 12. Yusuf · Ayah 33

  1. قَالَ رَبِّ السِّجْنُ اَحَبُّ اِلَیَّ مِمَّا یَدْعُوْنَنِیْۤ اِلَیْهِ١ۚ وَ اِلَّا تَصْرِفْ عَنِّیْ كَیْدَهُنَّ اَصْبُ اِلَیْهِنَّ وَ اَكُنْ مِّنَ الْجٰهِلِیْنَ﴿33﴾

    1. قَالَاس نے کہا
    2. رَبِّاے میرے رب
    3. السِّجْنُقید
    4. اَحَبُّزیادہ پسند
    5. اِلَيَّمجھ کو
    6. مِمَّااس سے جو
    7. يَدْعُوْنَنِيْٓمجھے بلاتی ہیں
    8. اِلَيْهِاس کی طرف
    9. وَاور
    10. اِلَّا تَصْرِفْاگر نہ پھیرا
    11. عَنِّيْمجھ سے
    12. كَيْدَهُنَّان کا فریب
    13. اَصْبُمائل ہوجاؤں گا
    14. اِلَيْهِنَّان کی طرف
    15. وَاَكُنْاور میں ہوں گا
    16. مِّنَسے
    17. الْجٰهِلِيْنَجاہل (جمع)
Translation · Baseerat-e-Quran
(یوسف نے ) کہا اے میرے رب مجھے جیل جانا اس سے زیادہ پسند ہے جس کی طرف وہ مجھے بلا رہی ہیں اور اے اللہ آپ نے ان کے مکر و فریب سے مجھے نہ بچایا تو کہیں میں ان کی طرف مائل ہو کر نادانوں میں سے نہ ہوجاؤں۔
Tafseer · Baseerat-e-Quran
لغات القرآن آیت نمبر 33 تا 35 السجن (جیل، قید خانہ) احب (زیادہ محبوب ہے، زیادہ پسندیدہ ہے) الی (میری طرف، مجھے ) یدعون (وہ بلاتے ہیں ) الا تصرف (اگر تو نہیں پھیرتا ہے ) اصب میں مبتلا ہوجاؤں گا کان میں ہوجاؤں گا حین زمانہ، وقت تشریح : آیت نمبر 33 تا 35 زلیخا (عزیز مصر کی بیوی) صاف الفاظ میں کہہ چکی تھی کہ یوسف کو ہر حال میں میری بات ماننا پڑے گی۔ اگر اس نے میری ابت نہ مانی تو میں اس کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ضرور پہنچا دوں گی حضرت یوسف زلیخا اور بیگمات مصر کی بےتکی اور فضول باتوں سے بہت رنجیدہ تھے۔ آخر کار حضرت یوسف اللہ کی بارگاہ میں جھک گئے اور نہایت عزجزی کے ساتھ عرض کیا۔ الٰہی ! یہ عورتیں مجھے اپنی ہوس اور خواہش پر قربان کرنا چاہتی ہیں مجھے ان کی جھوٹی خواہشوں اور پرفریب حرکتوں سے محفوظ فرما۔ اے اللہ میری دستگیری فرمایئے کیونکہ انہوں نے میرے لئے مشکلات کے پہاڑ کھڑے کردیئے ہیں۔ الٰہی مجھے ان عورتوں کے مکر و فریب اور خواہشات سے محفوظ فرما دے۔ مجھے جیل جانا پسند ہے لیکن کسی گناہ کے تصور سے بھی میں کانپ اٹھتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف کی دعا کو قبول فرمایا۔ ادھر اسباب یہ ہوئے کہ عزیز مصر اس بات سے سخت پریشان تھا کہ یوسف بیشک بےقصور ہیں اور ان کا کردار ہر طرح کے شک و شبہ سے بالاتر ہے لیکن اس واقعہ کی اتنی شہرت ہوچکی ہے کہ گھر گھر میں اس کا چرچا ہو رہا تھا۔ اب دو ہی صورتیں تھیں کہ اس واقعہ پر خاموشی اختیار کی جائے یا اس واقعہ کا انکار کر کے لوگوں کو یقین دلایا جائے کہ ایسا سب کچھ نہیں ہے جیسا کہ لوگ سمجھ رہے ہیں۔ پہلی صورت میں دشواری یہ بھی کہ خاموش رہنے سے اس بات کے ختم ہونے کا کوئی امکان نہیں تھا۔ دوسری صورت کا یہی حل تھا کہ حضرت یوسف کو قید کردیا جائے تاکہ لوگوں کی زبانیں بند ہوجائیں، شاہی خاندان کا وقار بھی بچ جائے اور لوگ یہ سمجھنے پر مجبور ہوجائیں کہ اس میں زلیخا (عزیز مصر کی بیوی) کا کوئی قصور نہیں ہے۔ بالاخر حضرت یوسف کو قید خانے بھیج دیا گیا۔ حضرت یوسف جیسے ہی قید خانے میں داخل ہوئے اور چند روز میں اعلیٰ سیرت و کردار کا مظاہرہ کیا تو ہر شخص آپ کا گرویدہ ہوگیا۔ قید خانے کے داروغہ نے تو قید خانے کے سارے اہم معاملات حضرت یوسف کے حوالے کردیئے تھے۔ حضرت یوسف کو دیکھ کر ہر شخص کو اس بات کا یقین ہوگیا تھا کہ حضرت یوسف کا کوئی قصور نہیں ہے بلکہ ان کو زبردستی قید خانے میں ڈالا گیا ہے۔ اللہ کے نیک بندوں کی بھی عجیب شان ہے کہ وہ آزاد ہوں یا قید میں ہر حال میں اپنی سیرت و کردار کا لوہا منوا لیتے ہیں چناچہ قید خانے کے ہر قیدی کے دل میں آپ کے علم و فضل اور اعلیٰ سیرت و کردار کا نقش جمتا چلا گیا اور وہی قید خانہ حضرت یوسف کے لئے عزت و سربلندی اور لوگوں کی محبت کا مرکز بن گیا۔