Surah Introduction

بصیرتِ قرآن

Baseerat-e-Quran · 12. Yusuf · Ayah 94

  1. وَ لَمَّا فَصَلَتِ الْعِیْرُ قَالَ اَبُوْهُمْ اِنِّیْ لَاَجِدُ رِیْحَ یُوْسُفَ لَوْ لَاۤ اَنْ تُفَنِّدُوْنِ﴿94﴾

    1. وَلَمَّااور جب
    2. فَصَلَتِجدا جدا (روانہ ہو)
    3. الْعِيْرُقافلہ
    4. قَالَکہا
    5. اَبُوْهُمْان کا باپ
    6. اِنِّىْبیشک میں
    7. لَاَجِدُالبتہ پاتا ہوں
    8. رِيْحَہوا (خوشبو)
    9. يُوْسُفَیوسف
    10. لَوْلَآاگر نہ
    11. اَنْکہ
    12. تُفَنِّدُوْنِمجھے بہک گیا جانو
Translation · Baseerat-e-Quran
اور جب قافلہ روانہ ہوا تو ان کے والد (یعقوب) نے کہا کہ بیشک میں یوسف کی خوشبو محسوس کر رہا ہوں تم کہیں یہ نہ کہنے لگو کہ میں (بڑھاپے میں) بہک رہا ہوں۔
Tafseer · Baseerat-e-Quran
لغات القرآن آیت نمبر 94 تا 98 فصلت جدائی ہوئی، جدا ہوا العیر قافلہ اجد میں پاتا ہوں تفندون تم مجھے بہکا ہوا نہ سمجھو ضلل بہکنا القدیم پرانا البشیر خوش خبری دینے والا القہ اس نے ڈالا وجھ چہرہ ارتد لوٹ آیا بصیر دیکھنا، بینائی لم اقل میں نے نہیں کہا استغفر بخشش مانگ لے ذنوب گناہ خطیئین خطا کرنے والے، گناہ کرنے والے سوف بہت جلد، عنقریب تشریح آیت نمبر 94 تا 98 گزشتہ آیات میں حضرت یوسف کا یہ جملہ نقل کیا گیا ہے کہ تم میری قمیص لے کر جاؤ اور ان کے (حضرت یعقوب کے) چہرے پر ڈالو تو ان کی بصارتو اپس آجائے گی اور اس کے بعد تم سب یہیں مصر میں آجانا، چناچہ یہ قمیص مصر سے روانہ ہوئی ادھر حضرت یعقوب کو حضرت یوسف کے قمیص کی خوشبو آنا شروع ہوگئی یہ کتنی عجیب بات ہے کہ جب حضرت یوسف کو ان کے بھائیوں نے کنعان کے ایک اندھے کنوئیں میں پھینک دیا تھا جو حضرت یعقوب سے بہت دور نہ تھا اس وقت تو ان کو یہ نہ معلوم ہوسکا کہ ان کا لخت جگر ان سے چند میل کے فاصلے پر نہایت کسمپرسی کی حالت میں ایک اندھے کنوئیں میں پڑا ہوا ہے لیکن جب ہزاروں میل دور سے حضرت یوسف کا پیرھن روانہ کیا جاتا ہے تو ان کو اس کی خوشبو آنے لگتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ اللہ کا نظام ہے کہ اللہ اپنے نبیوں کو جتنا اور جس وقت جو بھی علم دینا چاہے وہ دے دیتا ہے اور جب نہیں دینا چاہتا تو قریب کی چیز بھی نظر نہیں آتی۔ جس طرح صلح حدیبیہ کے موقع پر یہ افواہ اڑا دی گئی کہ حضرت عثمان غنی جو کہ مکرمہ میں کفار مکہ کو سمجھانے گئے تھے ان کو شہید کردیا گیا ہے ۔ اس افواہ کے سنتے ہی تمام مسلمانوں میں ایک بےچینی پھیل گئی اس موقع پر نبی کریم ﷺ نے حضرت عثمان کے خون کا بدلہ لینے کے لئے اپنے دست مبارک پر تمام مسلمانوں سے بیعت لی جس کو ” بیعت رضوان “ کہا جاتا ہے اور طے کیا گیا کہ جب تک خون عثمان کا بدلہ نہیں لیں گے اس وقت تک ہم یہاں سے نہیں جائیں گے۔ کچھ دیر کے بعد معلوم ہوا کہ حضرت عثمان زندہ ہیں اور کسی نے ان کے متعلق غلط افواہ اڑا دی تھی۔ یہ سن کر سب مسلمان اور نبی کریم ﷺ خوش ہوگئے۔ اس واقعہ میں اگر غور کیا جائے تو یہ بات سامنے آئے گی کہ جب آپ ﷺ حضرت عثمان کے لئے بیعت لے رے تھے اس وقت آپ کو معلوم نہ تھا کہ حضرت عثمان غنی زندہ ہیں یا نہیں۔ اسی طرح کے اور بہت سے واقعات بھی پیش کئے جاسکتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ انبیاء کرام کو اللہ ہی علم عطا فرماتا ہے ان کو اتنا ہی علم حاصل ہوتا ہے جو اللہ ان کو دینا چاہتا ہے وہ خود عالم الغیب نہیں ہوتے۔ سب سے زیادہ غیب کا علم نبی کریم ﷺ کو دیا گیا ہے اگرچہ آپ ﷺ غیب کے سب سے زیادہ جاننے والے تھے مگر اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ نبی کریم ﷺ خود ہی عالم الغیب تھے بلکہ اللہ کی ذات ہی وہ ذات ہے جو غیب اور شہادہ کو جانتا ہے اور اللہ کی ذات ہی عالم الغیب ہے۔ حضرت یعقوب کو جب حضرت یوسف کے پیرھن کی خوشبو آنا شروع ہوئی تو انہوں نے اپنے گھرو الوں سے کہا کہ میں یوسف کی خوشبو محسوس کر رہا ہوں کہیں تم یہ نہ کہنے لگنا کہ میں بڑھاپے میں بہک رہا ہوں۔ سب نے کہا کہ اب یوسف کو مرے ہوئے بھی عرصہ ہوگیا اب یوسف اور اس کے پیرھن کا کیا سوال پیدا ہوتا ہے ایسا لگتا ہے کہ وہی پرانا وہم اور خیال پھر سے تازہ ہوگیا ہے۔ لیکن جب کچھ ہی عرصہ کے بعد حضرت یوسف کا پیرھن لایا گیا اور ان کے چہرہ پر ڈالا گیا تو ان کی بینائی واپس آگئی اور فرمایا کہ دیکھو میں نہیں کہتا تھا کہ میں اللہ کی طرف سے وہ بہت کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ حضرت یعقوب کی مراد یہ تھی کہ مجھے اس بات کا یقین تھا کہ یوسف زندہ ہیں کیونکہ انہوں نے جو خواب دیکھا تھا اس کی تعبیر تو ابھی سامنے آئی نہیں اور بنی اسرائیل کی سربلندی کے لئے جو اللہ کا وعدہ ہے وہ نعمت تو ابھی پوری ہوئی نہیں۔ لہٰذا میرا دل کہتا ہے کہ یوسف زندہ ہیں۔ جب حضرت یعقوب کی بینائی واپس آگئی اور حضرت یعقوب کے چہرے پر پھر وہی مسکراہٹ آگئی تو سب بھائیوں نے اپنے والد سے عرض کیا کہ واقعی ہم خطا کار ہیں ہم سے بہت بڑی بھول ہوئی۔ اب آپ رب سے ہمارے گناہوں کی معافی کی درخواست کردیجیے کہ وہ ہمیں معاف فرما دے ہمیں اپنے گناہوں کا اعتراف ہے۔ اس کے جواب میں حضرت یعقوب نے یہ نہیں فرمایا کہ میں دعا کرتا ہوں بلکہ آپ نے فرمایا کہ میں بہت جلد تمہارے لئے دعائے مغفرت کروں گا۔ وجہ یہ تھی کہ یہ تمام بھائی جہاں اپنے والد کو شدید اذیت پہنچانے کے ذمہ دار تھے وہیں حضرت یوسف کو اذیتیں دینے کے بھی مجرم تھے اس لئے ممکن ہے کہ آپ نے یہ سو چاہو کہ جب یوسف معاف کردیں گے تو میں بھی اللہ سے ان کی معافی کے لئے درخواست کروں گا۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ والد یہ دیکھنا چاہتے ہوں کہ ان کے بیٹوں نے جس ندامت کا اظہار کیا ہے وہ وقتی جذبہ ہے یا وہ واقعی اپنے کئے پر شرمندہ ہیں۔