بصیرتِ قرآن
Baseerat-e-Quran · 13. Ar-Ra'd · Ayah 27
وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ یُضِلُّ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ اَنَابَۖۚ﴿27﴾
- وَيَقُوْلُاور کہتے ہیں
- الَّذِيْنَ كَفَرُوْاوہ لوگ جنہوں نے کفر کیا (کافر)
- لَوْکیوں
- لَآ اُنْزِلَنہ اتاری گئی
- عَلَيْهِاس پر
- اٰيَةٌکوئی نشانی
- مِّنْسے
- رَّبِّهٖاس کا رب
- قُلْآپ کہ دیں
- اِنَّبیشک
- اللّٰهَاللہ
- يُضِلُّگمراہ کرتا ہے
- مَنْ يَّشَآءُجس کو چاہتا ہے
- وَيَهْدِيْٓاور راہ دکھاتا ہے
- اِلَيْهِاپنی طرف
- مَنْجو
- اَنَابَرجوع کرے
Translation · Baseerat-e-Quran
اور وہ کافر کہتے ہیں کہ ان پر (نبی ﷺ پر) اس کے رب کی طرف سے کوئی معجزہ کیوں نازل نہیں کیا گیا۔ آپ کہہ دیجیے کہ بیشک اللہ جس کو چاہتا ہے گمراہ کردیتا ہے اور جو اس کی طرف رجوع کرتا ہے وہ اس کو اپنی طرف ہدایت دے دیتا ہے۔
Tafseer · Baseerat-e-Quran
لغات القرآن آیت نمبر 27 تا 30
لولا انزل کیوں نازل نہیں کیا گیا ایۃ نشانی۔ معجزہ یضل وہ گمراہ کرتا ہے۔ بھٹکا دیتا ہے یھدی وہ ہدایت دیتا ہے۔ راہ پر لگا دیتا ہے اناب رجوع کیا۔ لوٹا تطمئن مطمئن ہوتے ہیں بذکر اللہ اللہ کی یاد سے طوبی خوش حالی ہے۔ خوش خبری ہے ماب ٹھکانا امم امتیں لتتلوا تاکہ تو پڑھے او حینا ہم نے وحی کی یکفرون وہ انکار کرتے ہیں۔ کفر کرتے ہیں متاب لوٹنے کی جگہ۔ ٹھکانا
تشریح :- آیت نمبر 27 تا 30
جیسا کہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو لاتعداد معجزات عطا فرمائے ہیں البتہ سب سے بڑا معجزہ قرآن کریم ہے جس کی موجودگی میں کسی دوسرے معجزے کا مطالبہ کرنا بڑی احمقانہ بات تھی لیکن کفار مکہ نبی کریم ﷺ سے کبھی آ کر یہ کہتے کہ :
آپ کیسے نبی ہیں آپ کے ساتھ اللہ کے فرشتے کیوں نہیں ہیں جو ہر وقت آپ کے ساتھ رہتے کبھی اس بات کا مطالبہ کرتے کہ اے محمد ﷺ ! اگر آپ سچے نبی ہیں تو مکہ کے چاروں طرف جو پہاڑ ہیں ان کو ہٹوا کر کھلا میدان بنوا دیجیے تاکہ ہم اس میدان میں کھیتی باڑی کرسکیں۔
کبھی کہتے کہ زمین کو پھاڑ کر اس میں چشمے اور نہریں جاری کرا دیجیے تاکہ ہمیں جو پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے وہ دور ہو سکے۔
کبھی اپنے ان مردوں کو زندہ کرنے کی فرمائش کرتے جو مر کر مٹی ہوچکے ہیں اور کہتے کہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ ان مردوں سے ہم باتیں کر کے سارے حالات معلوم کرسکیں۔ اسی طرح وہ ہر روز کوئی نہ کوئی فرمائش کرتے رہتے تھے۔ ان کا مقصد یہ نہیں تھا کہ ان کو ایمان لانا تھا بلکہ وہ نبی کریم ﷺ کو پریشان کرنے کے لئے یہ سب کچھ کہتے تھے کیونکہ جس کو ایمان لانا ہے وہ معجزات دیکھنے کا محتاج نہیں ہوتا۔ قرآن کریم حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ کے معجزات کا ذکر کر کے کہتا ہے کہ ان انبیاء کرام نے ایسے ایسے معجزات دکھائے جن کے سامنے ہر شخص عاجز ہو کر رہ گیا تھا۔ وہ کھلی آنکھوں سے معجزات کو دیکھ رہے تھے۔ لیکن ان میں سے کتنے لوگ ایمان لائے ؟ جس کو ایمان لانا تھا اور ایمان لے آیا اور جس نے گم راہی اختیار کرنی تھی وہ معجزات دیکھ کر بھی گم راہ ہی رہا۔
ان آیات میں بھی اللہ تعالیٰ نے ان کفار کے اسی مطالبہ کا ذکر کیا ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ اے نبی ﷺ ایسا کیوں نہ ہوا کہ آپ کا رب آپ پر کوئی معجزہ نازل کرتا تاکہ ہم اس کو دیکھ کر آپ پر ایمان لاتے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب یہ ارشاد فرمایا کہ ہدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے وہ جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے گم راہ کردیتا ہے۔ معجزہ ہونے یا نہ ہونے سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ وہ اللہ ان ہی لوگوں کو ہدایت عطا فرماتا ہے جو اس کے سامنے جھکے رہتے ہیں جو ایمان کی دولت سے مالا مال ہوتے ہیں اور اپنے دلوں کو اللہ کے ذکر سے مطمئن کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اطمینان، سکون اور چین اللہ کی یاد ہی میں ہے۔
فرمایا کہ وہ لوگ بہت ہی خوش نصیب ہیں جو ایمان اور عمل صالح کی زندگی اختیار کرتے ہیں اور اپنے لئے بہتر انجام حاصل کرتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ اے ہمارے نبی ﷺ ! جس طرح آپ اللہ کے رسول ہیں اسی طرح آپ سے پہلے بہت سے رسول اور ان کی امتیں گذر چکی ہیں ان سے بھی اسی طرح کے سوالات کئے گئے۔ ان کا مذاق اڑایا گیا اور ان کی نافرمانی کر کیا انہوں نے اپنی دنیا و آخرت کو خراب کرلیا۔ فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! آپ ان کفار کو اللہ کا کلام جو آپ کی طرف نازل کیا گیا ہے پڑھ کر سنائیے۔ آپ اپنے اللہ کی طرف متوجہ رہئے اسی پر بھروسہ کیجیے اگر یہ رحمٰن اور اس کے کرم کا انکار کرتے ہیں تو کرنے دیجیے۔ آپ اپنی زبان مبارک سے پیہ پیغام ساری دنیا تک پہنچا دیجیے کہ ایک اللہ کے سوا دوسرا کوئی معبود نہیں ہے اسی پر میں بھروسہ کرتا ہوں اور اسی کی طرف میں متوجہ ہوتا ہوں۔