Surah Introduction

بصیرتِ قرآن

Baseerat-e-Quran · 5. Al-Maaida · Ayah 119

  1. قَالَ اللّٰهُ هٰذَا یَوْمُ یَنْفَعُ الصّٰدِقِیْنَ صِدْقُهُمْ١ؕ لَهُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ﴿119﴾

    1. قَالَفرمایا
    2. اللّٰهُاللہ
    3. هٰذَایہ
    4. يَوْمُدن
    5. يَنْفَعُنفع دے گا
    6. الصّٰدِقِيْنَسچے
    7. صِدْقُهُمْان کا سچ
    8. لَهُمْان کے لیے
    9. جَنّٰتٌباغات
    10. تَجْرِيْبہتی ہیں
    11. مِنْ تَحْتِهَاان کے نیچے
    12. الْاَنْھٰرُنہریں
    13. خٰلِدِيْنَہمیشہ رہیں گے وہ
    14. فِيْهَآان میں
    15. اَبَدًاہمیشہ
    16. رَضِيَراضی ہوا
    17. اللّٰهُاللہ
    18. عَنْهُمْان سے
    19. وَرَضُوْااور وہ راضی ہوئے
    20. عَنْهُاس سے
    21. ذٰلِكَیہ
    22. الْفَوْزُکامیابی
    23. الْعَظِيْمُبڑی
Translation · Baseerat-e-Quran
تب اللہ فرمائے گا۔ یہ وہ دن ہے جب کہ سچے لوگوں کو ان کی سچائی نفع دے گی۔ ان کے لئے وہ باغات ہیں جن میں نہریں بہتی ہوں گی۔ جہاں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی رہے۔ یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔
Tafseer · Baseerat-e-Quran
آیت نمبر 119 تا 120 لغات القرآن : ینفع (نفع دے گا) ۔ الصدقین (سچ بولنے والے) ۔ ؓ (اللہ راضی ہوگیا) ۔ الفوز العظیم (بڑی کامیابی) ۔ تشریح : جس طرح حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اشارے ہی اشارے میں اپنی امت کیلئے سفارش کی تھی اسی طرح اللہ نے بھی اشارے ہی اشارے میں جواب دے دیا کہ جنت صرف اہل صدق کے لئے ہے۔ اہل کذب کیلئے نہیں ۔ اس کے لئے ہے جو اللہ کو اللہ مانتے ہیں۔ ان کئ لئے نہیں جو غیر اللہ کو بھی اللہ مانتے ہیں جنت ان کے لئے ہے جو توحید والے ہیں۔ ان کے لئے نہیں جو تثلیث والے ہیں۔ ” اللہ ان سے راضی ہوا چونکہ وہ اللہ سے راضی رہے “ ۔ اس چھوٹے سے جملہ کے اندر معانی اور مطالب کے سات سمندر ٹھاٹھیں مار رہے ہیں۔ حضور پر نور ﷺ کے صحابہ کرام ؓ کے متعلق بھی یہی آیت سورة البینہ میں آئی ہے۔ آسمانوں اور زمین ۔ سورة بقرہ کی آیت 29 میں سات آسمانوں کا ذکر ہے۔ قرآن میں ہر جگہ آسمان کا ذکر جمع میں ہے اور زمین کا ذکر واحد میں۔ ” سموات “ بلند اور ارفع اشیاء کو کہتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ انسان کے نقطہ نظر سے جس مقام پر وہ ہے جس دنیا میں وہ ہے، جہاں وہ اپنی صلاحیتیں استعمال کرسکتا ہے، جہاں وہ تہذیب و تمدن بنا رہا ہے۔ وہی زمین ہے۔ بقیہ سب آسمان ہیں۔ جہاں اس کی پہنچ ہے وہ زمین۔ جہاں اس کی پہنچ نہیں ہے وہ آسمان ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے آپ نے سورة مائدہ کی تمام آیات کا ترجمہ اور مختصر تفسیر و تشریح ملاحظہ فرمائی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان باتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین ثم آمین) واخر دعوانا ان الحمدللہ رب العالمین۔