Surah Introduction

بصیرتِ قرآن

Baseerat-e-Quran · 7. Al-A'raaf · Ayah 178

  1. مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِیْ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ﴿178﴾

    1. مَنْجو۔ جس
    2. يَّهْدِہدایت دے
    3. اللّٰهُاللہ
    4. فَهُوَتو وہی
    5. الْمُهْتَدِيْہدایت یافتہ
    6. وَمَنْاور جس
    7. يُّضْلِلْگمراہ کردے
    8. فَاُولٰٓئِكَسو وہی لوگ
    9. هُمُوہ
    10. الْخٰسِرُوْنَگھاٹا پانے والے
Translation · Baseerat-e-Quran
جس کو اللہ ہدایت دیتا ہے وہ راستہ پالیتا ہے اور جس کو بھٹکا دے تو وہی لوگ ہیں جو نقصان اٹھانے والے ہیں
Tafseer · Baseerat-e-Quran
تشریح : آیت نمبر 178 تا 179 انسان دو طرح کے ہیں ۔ ایک وہ جو اپنی فطری صلاحیتوں کا صرف اپنے اہل و عیال اور خوشی و مسرت اور عیش و آرام کے لئے استعمال کرتے ہیں ۔ ان کی ساری تگ و دود صرف دنیاوی مفادات حاصل کنے کیلئے ہوتی ہے۔ دوسرے وہ ہیں جو آخرت کو حاصل کرنے کے لئے دنیا کو ایک سیڑھی کے طور پر استعمال کرتے ہیں ۔ آخر کمانے کے لئے صرف اتنی ہی دنیا کماتے ہیں جو ان کی بنیادی ضروریات کو پورا کردے۔ ان دونوں میں سے ایک کا مقصد زندگی برائے زندگی ہے اور دوسرے کا مقصد زندگی برائے بندگی ہے۔ یہاں ان لوگوں کو جانوروں سے تشبیہ دی گئی ہے جو صرف کھانے پینے اور عیش و آرام ہی کو زندگی کا مقصد بنا کر اس کے پیچھے دوڑ رہے ہیں انہیں آخرت کی کوئی فکر نہیں ہے ان کے پاس جو دل ہے وہ فکر آخرت سے محروم ہے۔ ان کے کان ہیں مگر وہ دین کی بات سننے کے لئے نہیں ان کی آنکھیں ہیں مگر حقیقت کو دیکھنے کے لئے نہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو جہنم میں جانے پر تلے ہوئے ہیں ۔ لیکن وہ لوگ جن کا مقصد آخرت اور اس کی ابدی راحتیں ہیں ان کے قلب و نظر اور فکر کا دائرہ آخرت تک وسیع ہے اور یقینا یہی وہ لوگ ہیں جو دنیا و آخرت کی کامیابیاں حاصل کرنے والے ہیں۔