تفسیر درِ منثور
Dure-Mansoor · 58. Al-Mujaadila · Ayah 11
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْ١ۚ وَ اِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ١ۙ وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ﴿11﴾
- يٰٓاَيُّهَااے
- الَّذِيْنَجو لوگ
- اٰمَنُوْٓامومنو
- اِذَا قِيْلَجب کہاجائے
- لَكُمْتمہیں
- تَفَسَّحُوْاتم کھل کر بیٹھو
- فِي الْمَجٰلِسِمجلسوں میں
- فَافْسَحُوْاتو تم کھل کر بیٹھ جایا کرو
- يَفْسَحِکشادگی بخشے گا
- اللّٰهُاللہ
- لَكُمْ ۚتمہیں
- وَاِذَا قِيْلَاور جب کہا جائے
- انْشُزُوْاتم اٹھ کھڑے ہو
- فَانْشُزُوْاتو اٹھ جایا کرو
- يَرْفَعِ اللّٰهُبلند کردے گا اللہ
- الَّذِيْنَ اٰمَنُوْاجو لوگ ایمان لائے
- مِنْكُمْ ۙتم میں سے
- وَالَّذِيْنَاور جن لوگوں کو
- اُوْتُوا الْعِلْمَعلم عطا کیا گیا
- دَرَجٰتٍ ۭدرجے
- وَاللّٰهُاور اللہ
- بِمَااس سے جو کچھ
- تَعْمَلُوْنَتم کرتے ہو
- خَبِيْرٌباخبر
Translation · Dure-Mansoor
اے ایمان والو ! جب تم سے کہا جائے کہ تم مجلس میں کشادگی کرو تو تم کشادگی کرو اللہ تعالیٰ تمہارے لیے کشادگی کرے گا اور جب کہا جاتا ہے کہ تم اٹھ جاؤ تو تم اٹھ جاؤ تو اللہ تعالیٰ تم میں سے ایمان والوں کے درجات بلند کرے گا اور جن کو علم دیا گیا ان کے لیے بلند درجات ہیں اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے باخبر ہیں
Tafseer · Dure-Mansoor
5۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے آیت تفسحوا فی المجالس الف کے ساتھ آیت فافسحوا یفسح اللہ لکم (مجلس میں جگہ کھول دیا کرو اور اللہ تم کو کھلی جگہ جنت میں دے گا۔ فرمایا اللہ تعالیٰ تمہارے لیے قتال میں کشادگی کردے گا۔ آیت واذا قیل انشزوا فانشزوا۔ اور جب تم سے کہا جائے کہ مجلس سے اٹھ کھڑے ہو تو اٹھ جایا کرو۔ یعنی جب کہا جائے کہ واپسی کے لیے اٹھ کھڑے ہو تو اٹھ جاؤ۔
6۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے آیت یا ایہا الذین اٰمنوا اذا قیل لکم تفسحوا فی المجٰلس کے بارے میں روایت کیا کہ نبی ﷺ کی مجلس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ آیت یا ایہا الذین اٰمنوا اذا قیل لکم تفسحوا فی المجٰلس فافسحوا یفسح اللہ لکم۔
7۔ عبد بن حمید وعبدالرزاق وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت اذا قیل لکم تفسحوا الایۃ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ آیت مجالس ذکر کے بارے میں نازل ہوئی اور یہ اس وجہ سے کہ جب وہ لوگ کسی کو سامنے سے آتا دیکھتے تھے تو رسول اللہ ﷺ کے پاس ان کے بیٹھنے کی جگہ نہ چھوڑتے تھے۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم فرمایا کہ بعض بعض کے لیے جگہ کو کھول دیا کریں۔
8۔ ابن المنذر نے حسن (رح) نے اس آیت میں روایت کیا کہ وہ لوگ آتے تھے اور جڑ جڑ کر بیٹھ جاتے تھے۔ اس طرح پر کہ بعض ان کا بعض کے پیچھے ہوتا تھا۔ تو ان کو حکم دیا گیا کہ وہ مجلس میں جگہ کھول دیں۔ تو ان کے بعض نے بعض کے لیے جگہ کھول دی۔
9۔ ابن ابی حاتم نے مقاتل بن حیان (رح) سے روایت کیا کہ یہ آیت جمعہ کے دن نازل ہوئی۔ اور رسول اللہ ﷺ اس دن صفہ میں بیٹھے ہوئے تھے اور جگہ میں تنگی تھی آپ مہاجرین اور انصار میں سے بدر والوں کا اکرام فرماتے تھے۔ کچھ لوگ اہل بدر میں سے آئے اور وہ مجلس کی طرف آگے بڑھے اور رسول اللہ ﷺ کے سامنے کھڑے ہوگئے اور انہوں نے نبی ﷺ کو سلام کیا آپ نے ان کے سلام کو جواب دیا۔ پھر انہوں نے صحابہ ؓ کو سلام کیا انہوں نے بھی ان کو جواب دیا وہ اپنے پاؤں پر کھڑے رہے انتظار کرتے ہوئے کہ ان کے لیے جگہ کو کھول دیا جائے گا۔ نبی ﷺ نے سمجھ لیا کہ کس چیز نے ان کو کھڑا ہونے پر آمادہ کیا ہے کہ ان کے لیے جگہ کو نہیں کھولا گیا۔ تو یہ بات آپ پر بھاری گزری۔ْ آپ نے اپنے ارگرد کے مہاجرین اور انصار میں سے اہل بدر کے علاوہ دوسرے لوگوں سے فرمایا اے فلاں کھڑا ہوجا اور اے فلاں تو بھی کھڑا ہوجا۔ اہل بدر میں سے جتنے لوگ کھڑے تھے ان کی تعداد کے برابر آپ نے لوگوں کو اٹھادیا۔ تو جن کو آپ کی مجلس سے اٹھایا گیا۔ ان پر بھی یہ بات بھاری گذری۔
مجلس میں آنے والے کے لیے کشادگی پیدا کرنا
10۔ بخاری ومسلم نے حضرت عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کوئی آدمی کسی کو اس کے بیٹھنے کی جگہ سے کھڑا نہ کرے پھر خود اس میں بیٹھ جائے لیکن تم آنے والوں کے لیے جگہ کشادہ کردو اور اسے وسیع کردو۔
11۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے آیت اذا قیل لکم تفسحوا فی المجلس کے بارے میں روایت کیا یہ کہ یہ قتال کی مجلس کے بارے میں ہے آیت واذاقیل انشزوا اور جب کہا جائے کہ مجلس سے اٹھ کھڑے ہو۔ یعنی کسی خیر کے کام اور نماز کی طرف اٹھو۔
21۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت واذا قیل انشزو یعنی جب کہا جائے اٹھو ہر بھلائی کی طرف مثلا دشمن کے خلاف جنگ کرنا اور نیکی کا حکم کرنا یا حق کو ثابت کرنا جو بھی ہو۔
13۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے آیت واذا قیل انشزوا فانشزوا کے بارے میں روایت کیا کہ جب تم خیر کی طرف بلائے جاؤ تو اس دعوت کو قبول کرو۔
14۔ ابن المنذر والحکام وصححہ وابیہقی نے المدخل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت یرفع اللہ الذین اٰمنوا منکم والذین اوتوا العلم درجت۔ اللہ تعالیٰ تم میں سے ایمان والوں کو اور ان لوگوں کو جن کو علم دین عطا کیا گیا آخرت میں درجے بلند کردے گا۔ یعنی اللہ ان لوگوں کو بلند کردے گا درجات میں جو علم دئیے گئے ان ایمان والوں پر جو علم نہیں دئیے گئے۔
15۔ سعید بن منصور وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا اللہ تعالیٰ نے علماء کو قرآن کی کسی آیت میں اس طرح خاص نہیں فرمایا جیسا اس آیت میں خاص فرمایا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان ایمان والوں کو فضیلت دی جو علم دئیے گئے ان ایمان والوں پر جو علم نہیں دئیے گئے۔