تفسیر درِ منثور
Dure-Mansoor · 58. Al-Mujaadila · Ayah 12
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نَاجَیْتُمُ الرَّسُوْلَ فَقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقَةً١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ لَّكُمْ وَ اَطْهَرُ١ؕ فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ﴿12﴾
- يٰٓاَيُّهَااے
- الَّذِيْنَجو لوگ
- اٰمَنُوْٓامومن
- اِذَاجب
- نَاجَيْتُمُتم کان میں بات کرو
- الرَّسُوْلَرسول
- فَقَدِّمُوْاتو تم دے دو
- بَيْنَ يَدَيْپہلے
- نَجْوٰىكُمْاپنے سرگوشی
- صَدَقَةً ۭکچھ صدقہ
- ذٰلِكَیہ
- خَيْرٌ لَّكُمْبہتر تمہارے لئے
- وَاَطْهَرُ ۭاور زیادہ پاکیزہ
- فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْاپھر اگر تم نہ پاؤ
- فَاِنَّ اللّٰهَتو بیشک اللہ
- غَفُوْرٌبخشنے والا
- رَّحِيْمٌرحم کرنے والا
Translation · Dure-Mansoor
اے ایمان والو ! جب تم رسول اللہ ﷺ سے سرگوشی کرو تم تمہاری سرگوشی سے تم تمہاری سرگوشی سے پہلے کچھ صدقہ پہلے کرلو یہ تمہارے لیے بہتر ہے اور زیادہ پاکیزگی والا ہے پھر اگر تم نہ پاؤ تو یقیناً اللہ تعالیٰ بخشنے والے نہایت رحم والے ہیں
Tafseer · Dure-Mansoor
1۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت اذا ناجیت الرسول جب تم رسول اللہ ﷺ سے سرگوشی کرو سے مراد ہے کہ مسلمان رسول اللہ ﷺ سے کثرت سے سوال پوچھتے تھے یہاں تک کہ آپ پر یہ معاملہ سخت ہوگیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ اپنے نبی اکرم ﷺ سے اس بوجھ کو ہلکا کردے۔ چناچہ سرگوشی سے پہلے صدقہ کرنے کا حکم فرمایا۔ جب اللہ تعالیٰ نے یہ حکم فرمایا تو بہت سے لوگ سوال کرنے سے اور مسائل پوچھنے سے رک گئے۔ تو اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ءا شفقتم کیا تم ڈرگئے الایۃ تو اللہ تعالیٰ نے ان پر وسعت فرمادی اور ان پر تنگی نہیں فرمائی۔
مشورہ کے لیے صدقہ کرنے کا حکم
2۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید و ترمذی وحسنہ وابو یعلی وابن جریر وابن المنذر وابن مردویہ والنحاس نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ آیت ءاشفقتم ان تقدموا بین یدی نجوکم صدقت۔ اے ایمان والو جب تم سرگشی کرنے لگو تو اپنی سرگوشی سے پہلے صدقہ کرلو تو مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تو ایک دینار کے بارے میں کیا رائے رکھتا ہے میں نے عرض کیا وہ اس کی طاقت نہ رکھیں گے پھر آپ نے فرمایا نصیف دینار کے بارے میں کیا رائے ہے ؟ میں نے عرض کیا وہ اس کی بھی طاقت نہیں رکھیں گے۔ پھر آپ نے فرمایا پھر کتنا ہونا چاہیے۔ میں نے عرض کیا ایک جو۔ آپ نے فرمایا بیشک تو بڑی بےرغبتی کرنے والا ہے پھر یہ آیت نازل ہوئی۔ آیت ءاشفقتم ان تقدموا بین یدی نجوکم صدقت۔ کیا تم اپنی سرگوشی سے قبل صدقہ کرنے سے ڈر گئے۔ یعنی میری وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس امت سے تخفیف فرمادی۔
3۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا کہ میرے علاوہ کسی نے اس آیت کے مطابق عمل کیا یہاں تک کہ یہ حکم منسوخ ہوگیا۔ آیت نجوی کا حکم نہیں تھا مگر ایک ساعت کے لیے۔
4 سعید بن منصور وابن راہویہ وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ والحاکم وصححہ نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا کہ اللہ کی کتاب میں ایک ایسی آیت ہے کہ مجھ سے پہلے کسی نے اس پر عمل نہیں کیا۔ اور نہ میرے بعد اس پر کوئی عمل کرے گ۔ اور آیت نجوی ہے آیت یا ایہا الذین اٰمنوا اذا ناجیت الرسول فقدموا بین یدی نجوکم صدقہ۔ میرے پاس ایک دینار تھا میں اس کو دس دراہم کے عوض بیچا اور جب بھی میں نبی اکرم ﷺ سے سرگوشی کی تو آپ کے سامنے ایک درہم پیش کیا پھر یہ حکم منسوخ ہوگیا تو کسی نے اس پر عمل نہیں کیا اور یہ آیت نازل ہوئی آیت ءاشفقتم ان تقدموا بین یدی نجوکم صدقت۔ کیا تم اپنی سرگوشیوں سے پہلے صدقہ کرنے سے ڈر گئے۔
5۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لوگوں کو نبی ﷺ سے سرگوشی کرنے سے منع کردیا گیا یہاں تک کہ وہ پہلے صدقے کریں تو سوائے حضرت علی بن ابی طالب ؓ کے کسی نے سرگوشی نہیں کی۔ کیونکہ انہوں نے ایک دینار پہلے صدقہ کیا۔ پھر انہوں نے نبی ﷺ سے سرگوشی کی اور آپ سے دس خصلتوں کے بارے میں پوچھا پھر رخصت نازل ہوگئی کہ بغیر صدقہ کیے سرگوشی کرسکتے ہو۔
6۔ سعید بن منصور نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ جو کوئی نبی ﷺ سے سرگوشی کرتا تو ایک دینار صدقہ کرتا اور سب سے پہلے حضرت علی ؓ نے یہ عمل کیا پھر رخصت نازل ہوگئی اور فرمایا آیت فاذلم تفعلوا وتاب اللہ علیکم۔ جب تم اس کو نہ کرسکے تو اللہ نے تمہارے حال پر عنایت فرمائی۔
7۔ ابن ابی حاتم نے مقاتل (رح) سے روایت کیا کہ مالدار لوگ نبی ﷺ کے پاس آتے تھے اور بہت زیادہ آپ کے ساتھ سرگوشیاں کرتے تھے اور مجالس میں غریب لوگ غالب آجاتے تھے یہاں تک کہ نبی ﷺ ان کے دیر تک بیٹھنے اور لمبی سرگوشیوں کو ناپسند فرماتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے سرگوشی سے پہلے صدقہ کرنے کا حکم فرمایا اس حکم پر تنگدست لوگوں نے تو صدقہ کرنے کے لیے کچھ نہ پایا اور یہ حکم دس راتوں تک رہا۔ لیکن جو لوگ وسعت والے تھے ان میں سے بعض نے اپنے مالوں کو روک لیا اور اپنے آپ کو پابند کردیا مگر ان میں سے کچھ لوگوں نے سرگوشی سے پہلے صدقہ دینا شروع کردیا۔ اور انہوں نے گمان کیا کہ ایک آدمی کے سوا مہاجرین اہل بدر میں سے کسی نے یہ کام نہیں کیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ءاشفقتم اتاری۔
8۔ طبرانی وابن مردویہ نے ضعیف سند کے ساتھ سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت کی کہ جب یہ آیت یا ایہالذین اٰمنوا اذا ناجیتم الرسول فقدموا بین یدی نجویٰکم صدقۃ نازل ہوئی تو میں ایک جو لے کر آیا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم بڑی بےرغبتی کا اظہار کرتے ہو تو پھر دوسری آیت نازل ہوئی ءاشفقتم ان تقدموا بین یدی نجوٰکم صدقت۔
9۔ ابوداوٗد فی ناسخہ وابن المنذر عطاء الخراسانی کے طریق ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة مجادلہ کی اس آیت اذا ناجیتم الرسول الاٰیۃ کے بارے میں روایت کیا کہ سب سے پہلے اس آیت کے حکم پر علی ؓ نے عمل کیا پھر یہ آیت منسوخ کردی گئی۔ واللہ اعلم۔