تفسیر درِ منثور
Dure-Mansoor · 58. Al-Mujaadila · Ayah 14
اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ تَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ١ؕ مَا هُمْ مِّنْكُمْ وَ لَا مِنْهُمْ١ۙ وَ یَحْلِفُوْنَ عَلَى الْكَذِبِ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ﴿14﴾
- اَلَمْ تَرَکیا تم نے نہیں دیکھا
- اِلَىطرف، کو
- الَّذِيْنَجو لوگ
- تَوَلَّوْادوستی کرتے ہیں
- قَوْمًاان لوگوں سے
- غَضِبَ اللّٰهُاللہ نے غضب کیا
- عَلَيْهِمْ ۭان پر
- مَا هُمْنہ وہ
- مِّنْكُمْتم میں سے
- وَلَا مِنْهُمْ ۙاور نہ ان میں سے
- وَيَحْلِفُوْنَاور وہ قسم کھاجاتے ہیں
- عَلَيپر
- الْكَذِبِجھوٹ
- وَهُمْحالانکہ وہ
- يَعْلَمُوْنَجانتے ہیں
Translation · Dure-Mansoor
کیا آپ نے دیکھا نہیں ان لوگوں کی طرف جنہوں نے دوستی کی ایسی قوم سے جن پر اللہ کا غضب ہے وہ تم میں سے نہیں ہیں اور نہ ان میں سے ہیں اور وہ جھوٹی قسم کھاتے ہیں اس حال میں کہ وہ جانتے ہیں
Tafseer · Dure-Mansoor
1۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا آیت الم تر الی الذین تولوا کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو ایسے لوگوں سے دوستی کرتے ہیں جن کے بارے میں ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ یہ آیت عبداللہ بن نبتل کے بارے میں نازل ہوئی اور منافقین میں سے تھا۔
2۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت الم تر الی الذین تولوا قوما غضب اللہ علیہم۔ کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو ایسے لوگوں سے دوستی کرتے ہیں جن پر اللہ کا غضب ہوا اور وہ یہودی اور منافق ہیں اور وہ جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں اور وہ اپنی قسموں کے ذریعے یہ بتاتے ہیں کہ وہ لوگ تم میں سے ہیں۔
3۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے آیت الم تر الی الذین تولوا قوما کے بارے میں روایت کیا کہ وہ منافقین ہیں جو یہودیوں سے دوستی لگاتے ہیں یوم یبعثہم اللہ۔ جس دن اللہ تعالیٰ ان کو اٹھائیں گے الایۃ۔ یعنی منافقین قیامت کے دن اپنے رب کے سامنے اس طرح قسمیں کھائیں گے جیسے وہ اپنے دوستوں سے دنیا میں قسمیں کھاتے تھے۔
شیطان کی آنکھ سے دیکھنے والا
4۔ احمد والبزار والطبرانی وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ والحاکم وصححہ و بیہقی نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے حجروں میں سے ایک حجرے کے سائے میں تشریف فرما تھے۔ اور آپ کے پاس مسلمانوں کی ایک جماعت بیٹھی ہوئی تھی۔ آپ نے فرمایا عنقریب تمہارے پاس ایک ایسا انسان آئے گا وہ تمہاری طرف شیطان کی آنکھ سے دیکھے گا جب وہ تمہارے پاس آئے تو اس سے بات نہ کرنا۔ تھوڑی دیر گزری تھی کہ ان پر نیلی آنکھوں والا کانا آدمی نمودار ہوا۔ آپ نے جب اس کو دیکھا تو فرمایا تو اور تیرے ساتھی مجھے کیوں گالیاں دیتے ہو پھر آپ نے فرمایا مجھے چھوڑ تو ان کو لے کر آ، وہ گیا اور ان کو بلا کرلے آیا انہوں نے جھوٹی قسمیں کھائیں اور معذرت کرلی تو اللہ تعالیٰ نے یہ اور اس کے بعد والی آیت نازل فرمائی یوم یبعثہم اللہ جمیعا فیحلفون لہ کما یحلفون لکم۔ جس دن اللہ تعالیٰ ان سب کو اٹھائے گا تو وہ اس کے لیے قسمیں کھائیں گے جیسے تمہارے لیے قسمیں کھاتے ہیں۔