تفسیر درِ منثور
Dure-Mansoor · 58. Al-Mujaadila · Ayah 3
وَ الَّذِیْنَ یُظٰهِرُوْنَ مِنْ نِّسَآئِهِمْ ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا قَالُوْا فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا١ؕ ذٰلِكُمْ تُوْعَظُوْنَ بِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ﴿3﴾
- وَالَّذِيْنَاور جو لوگ
- يُظٰهِرُوْنَظہار کرتے ہیں
- مِنْ نِّسَآئِهِمْاپنی بیویوں سے
- ثُمَّپھر
- يَعُوْدُوْنَوہ رجوع کرلیں
- لِمَااس سے جو
- قَالُوْاانہوں نے کہا (قول)
- فَتَحْرِيْرُتو آزاد کرنا لازم ہے
- رَقَبَةٍایک غلام
- مِّنْ قَبْلِاس سے قبل
- اَنْ يَّتَمَآسَّا ۭکہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں
- ذٰلِكُمْیہ
- تُوْعَظُوْنَتمہیں نصیحت کی جاتی ہے
- بِهٖ ۭاس سے، کی
- وَاللّٰهُاور اللہ
- بِمَااس سے جو
- تَعْمَلُوْنَتم کرتے ہو
- خَبِيْرٌباخبر ہے
Translation · Dure-Mansoor
اور جو مرد اپنی عورتوں سے ظہار کریں پھر وہ واپس رجوع کریں اس کی طرف جو انہوں نے کہا تو ایک غلام کی گردن کو آزاد کرنا ہے اس سے پہلے کہ وہ ایک دوسرے کو چھوئیں اس کی تمہیں نصیحت کی جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے باخبر ہے
Tafseer · Dure-Mansoor
کفارۂ ظہار میں غلام آزاد کرنا
35۔ عبدالرزاق نے المصنف میں ابو سلمہ بن عبدالرحمن کے طریق سے ابوسلمہ بن عبدالرحمن (رح) سے روایت کیا کہ سلمہ بن صخر الانصاری ؓ نے اپنی بیوی کو اپنے اوپر ماں کی پیٹھ کی طرح بنادیا (یعنی اپنی بیوی سے ظہار کرلیا) پھر اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا تو وہ نبی ﷺ کے پاس حاضر ہوئے گویا کہ وہ اس کو گناہ سمجھ رہے تھے۔ نبی ﷺ نے اس سے فرمایا کیا دو ماہ کے لگاتار روزے رکھنے کی طاقت رکھتا ہے ؟ اس نے کہا نہیں۔ پھر آپ نے فرمایا کیا تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کی طاقت رکھتا ہے۔ اس نے کہا نہیں تو نبی ﷺ نے فرمایا اے فروہ بن عمرو ! اس کو ایک عرق (کھجور) دے دو اور یہ ایک پندرہ یا سولہ صاع کا ایک پیمانہ ہے تاکہ یہ ساٹھ مسکینوں کو کھلادے۔ اس نے کہا کیا مجھ سے زیادہ کوئی فقیر ہے اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے ان دونوں کالی پتھریلی زمینوں کے دمیان کوئی گھروالے ہم سے زیادہ محتاج نہیں یہ سن کر رسول اللہ ﷺ ہنس پڑے پھر فرمایا اس کو اپنے گھروالوں کے پاس لے جا۔
36۔ عبد بن حمید وابن مردویہ و بیہقی نے السنن میں ابوالعالیہ (رح) سے روایت کیا کہ خولہ بنت ود بیج انصار کے ایک آدمی کے نکاح میں تھی۔ وہ بڑے اخلاق والا، اندھا اور فقیر آدمی تھا۔ اور زمانہ جاہلیت میں جب کوئی آدمی اپنی بیوی کو جدا کرنے کا ارادہ کرتا تھا تو یہ کہتا تھا تو میرے اوپر ایسی ہے جیسی میری ماں کی پیٹھ۔ اس نے اسے کیس پریشانی میں مبتلا کردیا تو اس نے کہا تو میرے اوپر میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے تو اس کے گھر کا ایک آدمی تھا یا دو آدمی تھے۔ پس جب اس نے اس کو کہتے ہوئے سنا جو اس نے کہا تو اس نے اپنے بچوں کو اٹھایا اور رسول اللہ ﷺ کی طرف دوڑ کرگئی۔ اور حضر عائشہ ؓ کے پاس جاکر ٹھہر گئی اور جبکہ عائشہ ؓ رسول اللہ ﷺ کے سر مبارک کے ایک حصہ کو دھو رہی تھیں۔ وہ عورت آپ کے پاس کھڑی ہوگئی۔ پھر کہنے لگی یارسول اللہ میرا خاوند فقیر ہے اندھا ہے اور برے اخلاق والا ہے میں نے اس سے کسی چیز میں جھگڑا کیا تو اس نے کہہ دیا تو میرے اوپر میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے اور اس نے طلاق کا ارادہ نہیں کیا۔ نبی ﷺ نے اس کی طرف سر اٹھا کر دیکھا اور فرمایا کہ میں نہیں جانتا مگر یہ کہ تو اس پر حرام ہوچکی ہے۔ اس نے اپنی عاجزی ظاہر کی اور کہنے لگی میں اللہ کی طرف شکایت کرتی ہوں۔ جو مجھ پر مصیبت نازل ہوئی۔ عائشہ ؓ نے جب آپ کے سرمبارک کے دوسرے حصہ کو دھونے کے لیے دوسری جانب پھریں تو وہ عورت آپ کے ساتھ پھر گئی۔ اور اسی طرح پھر کہنے لگی اور مزید کہا کہ میرے اس سے ایک یا دو بچے ہیں۔ نبی ﷺ نے اپنے سرمبارک کو اس کی طرف اٹھایا اور فرمایا میں نہیں جانتا مگر یہ کہ تو اس پر حرام ہوچکی ہے۔ وہ رونے لگی اور کہنے لگی میں رسول اللہ ﷺ کی طرف اپنی مصیبت کی شکایت کر رہی ہوں۔ اور رسول اللہ ﷺ کا چہرہ مبارک متغیر ہوگیا تو عائشہ ؓ نے فرمایا پیچھے ہٹ جا چناچہ وہ بیٹھ گئی اور رسول اللہ ﷺ اسی حال پر رہے جتنا اللہ نے چاہا پھر وحی ختم ہوگئی تو فرمایا اے عائشہ وہ عورت کہاں ہے میں نے عرض کیا وہ یہ ہے فرمایا اس کو بلاؤ میں نے اس کو بلایا تو نبی ﷺ نے فرمایا جا اور اپنے شوہر کو لے آ۔ وہ دوڑتی ہوئی گئی اور ذرا تاخیر کے بغیر وہ آگئی اور اس کو نبی ﷺ کے پاس لے آئی۔ وہ ایسا ہی تھا جیسے اس عورت نے کہا تھا۔ اندھا فقیر، اور برے اخلاق والا۔ نبی ﷺ نے فرمایا میں پناہ مانگتا ہوں اس سمیع علیم ذات کے ذریعہ شیطان رجیم سے آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم قد سمع اللہ قول التی تجادلک فی زوجہا وتشتکی۔ آیت کے آخرتک۔ نبی ﷺ نے اس سے فرمایا کیا تو غلام پاتا ہے (کہ اس کو آزاد کرے) اس نے کہا نہیں۔ پھر آپ نے فرمایا کیا تو دو ماہ کے لگاتار روزے رکھنے کی طاقت رکھتا ہے ؟ اس نے کہا اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے بلاشبہ میں اگر ایک یا دو یا تین مرتبہ دن میں نہ کھاؤ تو میں بےہوش ہوجاتا ہوں۔ پھر آپ نے فرمایا کیا تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کی طاقت رکھتا ہے ؟ اس نے کہا نہیں مگر یہ کہ آپ اس میں میری مد فرمادیں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے اس کی مدد فرمائی اور اس نے اپنی قسم کا کفارہ ادا کیا۔
37۔ البزار والحاکم والطبرانی وابن مردویہ اور بیہقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نبی کریم ﷺ کے پاس آیا کہ میں نے اپنی بیوی سے ظہار کرلیا ہے پھر میں نے چاند کی روشنی میں اس کی پازب سفیدی کو دیکھا تو مجھے اچھی لگی تو میں اس پر واقع ہوگیا کفارہ ادا کرنے سے پہلے نبی ﷺ نے اس سے فرمایا آیت من قبل ان یتماسا کہ جماع کرنے سے پہلے کفارہ ادا کرو۔ اس نے کہا یارسول اللہ ! میں نے ایسا کرلیا۔ آپ نے فرمایا تو اس سے دور رہ اور رکا رہ اور یہاں تک کہ تو کفارہ ادا کرے۔
ظہار میں کفارہ سے پہلے ہم بستری جائز نہیں
38۔ عبدالرزاق وابو داوٗ والترمذی ولنسائی وابن ماجہ والحاکم والبیہقی نے عکرمہ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے کہا یارسول اللہ ! میں نے اپنی بیوی سے ظہار کیا پھر میں کفارہ دینے سے پہلے اس پر واقع ہوگیا۔ آپ نے فرمایا کس چیز نے تجھے اس پر آمادہ کیا ؟ اس نے کہا چاند کی روشنی میں اس کے پازیبوں کی چمک نے۔ آپ نے فرمایا اس کے قریب مت جاؤ یہاں تک کہ تو وہ کام کرلے جس کا اللہ نے تجھ کو حکم فرمایا ہے۔
39۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید واحمد وابوداوٗ دوالترمذی وحسنہ وابن ماجہ والطبرانی والبغوی فی معجمہ والحاکم وصححہ والبیہقی نے مسلمہ بن صخر انصاری ؓ سے روایت کیا کہ میں ایک ایسا آدمی تھا کہ عورت کے جماع کے وہ جذبات رکھے گئے جو میرے علاوہ کسی میں نہیں رکھے گئے۔ جب رمضان داخل ہوا تو میں نے اپنی بیوی سے ظہار کرلیا۔ رمضان گزرتا رہا اور میں رات کے وقت اپنی بیوی سے علیحدہ رہا۔ ایک رات میں اس کا پیچھا کرتا رہا لیکن میں اس کے ساتھ چلنے پر قادر نہ ہوچکا۔ یہاں تک کہ صبح ہوگئی۔ اس درمیان کہ وہ ایک رات میری خدمت کر رہی تھی۔ اچانک اس کی کوئی چیز مجھ پر ظاہر ہوگئی تو میں اس پر کود پڑا جب میں نے صبح کی تور صبح سویرے میں اپنی قوم کے پاس گیا اور میں نے اس کو ساری صورت بتائی اور میں نے ان سے کہا میرے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی طرف چلو۔ اور میرے معاملہ کی ان کو اطلاع دو ۔ انہوں نے کہا نہیں اللہ کی قسم ! ہم ایسا نہیں کریں گے۔ ہم ڈرتے ہیں کہ ہمارے بارے میں قرآن نازل نہ ہوجائے یا ہمارے بارے میں رسول اللہ ﷺ ایسی بات فرمادیں گے کہ اس کی عار اور شرم ہم پر باقی رہے۔ لیکن تو خود جا۔ اور ان کو بتلا جو کچھ تجھ سے ہوا میں نکلا اور رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور میں نے آپ کو اپنی خبر بتائی آپ نے فرمایا تو نے اس طرح کیا ہے ؟ میں نے کہا ہاں۔ پھر آپ نے فرمایا تو نے وہ کام کیا ؟ میں نے کہا ہاں میں نے کام کیا پھر فرمایا تو نے وہ کام کیا ؟ میں نے کہا ہاں میں نے یہ کام کیا اور میں ہی یہاں حاضر ہوں پس آپ میرے بارے میں اللہ کا حکم نافذ کیجیے میں اس میں صبر کرنے والا ہوں۔ آپ نے فرمایا ایک غلام آزاد کر اور میں نے اپنا ہاتھ اپنی گردن پر مارا اور کہا نہیں (میں غلام آزاد نہیں کرسکتا) اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں اس بیوی کے علاوہ کسی کا مالک نہیں ہوں پھر آپ نے فرمایا دو ماہ کے لگاتار روزے رکھ میں نے عرض کیا جو مجھے پیش آیا۔ اور روزوں کے درمیان ہی مجھے نہیں پیش آیا ؟ پھر آپ نے فرمایا ساٹھ مسکینوں کا کھانا کھلاؤ۔ میں نے کہا اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے۔ ہم نے اور میرے بیٹوں نے اپنی یہ رات اس حال میں گزاری ہے کہ ہمارے شام کے کھانے کے سوا اور کچھ نہ تھا۔ آپ نے فرمایا بنو زریق کے صدقہ والے کی طرف جاؤ اور اس کو صدقہ کے بارے میں کہو کہ وہ تجھ کو صدقہ کا مال عطا کرے۔ اور پھر تو اپنی طرف سے اس میں سے ایک وسق کھجور ساٹھ مسکینوں کو کھلادے۔ پھر ان تمام سے اپنے لیے اور اپنے اہل و عیال کے لیے مدد لے لے۔ تو میں اپنی قوم کی طرف لوٹ آیا۔ اور میں نے کہا کہ میں نے تمہارے پاس تنگی اور بری رائے کا پایا اور میں نے رسول اللہ ﷺ کے پاس وسعت اور برکت کو پایا۔ آپ ﷺ تمہیں صدقہ دینے کا حکم دیا ہے تو ان لوگوں نے اس کو صدقہ کا مال دے دیا۔