تفسیر درِ منثور
Dure-Mansoor · 58. Al-Mujaadila · Ayah 7
اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ مَا یَكُوْنُ مِنْ نَّجْوٰى ثَلٰثَةٍ اِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ وَ لَا خَمْسَةٍ اِلَّا هُوَ سَادِسُهُمْ وَ لَاۤ اَدْنٰى مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْثَرَ اِلَّا هُوَ مَعَهُمْ اَیْنَ مَا كَانُوْا١ۚ ثُمَّ یُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ﴿7﴾
- اَلَمْ تَرَکیا آپ نے نہیں دیکھا
- اَنَّ اللّٰهَکہ اللہ
- يَعْلَمُوہ جانتا ہے
- مَاجو
- فِي السَّمٰوٰتِآسمانوں میں
- وَمَا فِي الْاَرْضِ ۭاور جو زمین میں
- مَا يَكُوْنُنہیں ہوتی
- مِنْ نَّجْوٰىکوئی سرگوشی
- ثَلٰثَةٍتین لوگوں میں
- اِلَّا هُوَمگر وہ
- رَابِعُهُمْان میں چوتھا
- وَلَا خَمْسَةٍاور نہ پانچ کی
- اِلَّا هُوَمگر وہ
- سَادِسُهُمْان میں چھٹا
- وَلَآ اَدْنٰىاور نہ (خواہ) کم
- مِنْ ذٰلِكَاس سے
- وَلَآ اَكْثَرَاور نہ زیادہ
- اِلَّا هُوَمگر وہ
- مَعَهُمْان کے ساتھ
- اَيْنَ مَا كَانُوْا ۚجہاں کہیں وہ ہوں
- ثُمَّپھر
- يُنَبِّئُهُمْوہ انہیں بتلائے گا
- بِمَاجو کچھ
- عَمِلُوْاانہوں نے کیا
- يَوْمَ الْقِيٰمَةِ ۭقیامت کے دن
- اِنَّ اللّٰهَبیشک اللہ
- بِكُلِّ شَيْءٍہر شے کو
- عَلِيْمٌجاننے والا
Translation · Dure-Mansoor
کیا آپ نے دیکھا نہیں کہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے ان چیزوں کو جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں تین آدمیوں کی کوئی سرگوشی نہیں ہوتی مگر وہ ان میں کا چوتھا ہوتا ہے اور نہ پانچ آدمیوں کی مگر وہ ان میں کا چھٹا ہوتا ہے اور نہ اس سے کم اور نہ اس سے زیادہ مگر وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے جہاں وہ ہوتے ہیں پھر اللہ تعالیٰ انہیں خبر دے گا ان اعمال کی جو انہوں نے کیے قیامت کے دن یقیناً اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جاننے والے ہیں
Tafseer · Dure-Mansoor
3۔ بیہقی نے الاسماء والصفات میں ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت مایکون من نجوی ثلثۃ الا ہوا رابعہم ولا خمسۃ الا ہوسادسہم۔ کوئی تین کی سرگوشی ایسی نہیں ہوتی جس میں وہ چوتھا نہ ہو اور کوئی پانچ کی سرگوشی ایسی نہیں ہوتی جس میں وہ چھٹا نہ ہو یعنی وہ اللہ عرش پر ہیں اور ان کا علم ان کے ساتھ ہوتا ہے۔
4۔ ابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت الم تر الی الذین نہوا عن النجوی۔ کیا آپ نے ان لوگوں کی طرف نہیں دیکھا جن کو سرگوشی سے منع کیا گیا تھا۔ یعنی یہودیوں کو۔
سرگوشی کی ممنوع صورت
5۔ ابن ابی حاتم نے مقاتل بن حیان (رح) سے روایت کیا کہ نبی ﷺ اور یہودیوں کے درمیان صلح تھی جب نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے کوئی آدمی ان کے پاس سے گزرتا تھا تو وہ آپس میں سرگوشیاں کرنے لگتے۔ یہاں تک کہ مومن گمان کرتا کہ وہ لوگ آپس میں میرے قتل کے لیے سرگوشی کر رہے ہیں یا ایسی سرگوشیاں کرتے تھے جس کو مومن ناپسند کرتا تھا۔ جب مومن اس سرگوشی کو دیکھتا تو ان سے ڈرتا اور ان کا راستہ چھوڑدیتا۔ تو نبی مکرم ﷺ نے ان کو سرگوشی سے منع فرمایا مگر وہ باز نہ آئے۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری آیت الم تر الی الذین نہوا عن النجوی۔ کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو سرگوشی سے منع کیا گیا تھا۔
6۔ احمد وعبد بن حمید وبزار وابن المنذر و طبرانی وابن مردویہ اور بیہقی شعب الایمان میں جید سند کے ساتھ ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ یہودی رسول اللہ ﷺ سے کہتے تھے۔ ” سام علیکم “ یعنی تم پر موت ہو۔ اور اسے وہ آپ کو برا کہنے کا ارادہ کرتے تھے۔ پھر اپنے دلوں میں کہتے تھے۔ آیت لو لا یعذبنا اللہ بما نقول۔ کہ اللہ تعالیٰ ہم کو عذاب کیوں نہیں دیتے جو ہم کہتے ہیں۔ تو یہ آیت نازل ہوئی۔ آیت واذا جاءوک حیوک بما لم یحیک بہ اللہ۔ اور جب آپ کے پاس آتے ہیں تو آپ کو ایسے لفظ سے سلام کرتے ہیں جو اللہ نے آپ کے سلام کے لیے استعمال نہیں کیا۔
7۔ احمد وعبد بن حمید والبخاری والترمذی وصححہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ ایک یہودی نبی ﷺ اور آپ کے اصحاب کے پاس آیا اور آکر کہا ” السام علیکم “ تم پر موت ہو تو صحابہ کرام ؓ نے ان کو جواب دیا۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ کیا تم جانتے ہو کہ اس نے کیا کہا ؟ صحابہ ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے نبی اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں ہم نہیں جانتے۔ پھر فرمایا بلکہ اس نے اس طرح اور اس طرح کہا ہے تم اس کو میرے پاس لے آؤ۔ صحابہ ؓ اس کو آپ کے پاس لے آئے۔ تو آپ نے اسے فرمایا کیا تو نے ” السام علیکم “ کہا تھا (تم پر موت ہو) اس نے کہا ہاں (تونے ایسے ہی کہا تھا) نبی ﷺ نی اس وقت فرمایا جب اہل کتاب میں سے تم کو کوئی سلام کرے تو تم کہو (وعلیکم) تم پر وہی جو تو نے کہا اسی کو فرمایا آیت واذا جاءوک حیوک بما لم یحیک بہ اللہ۔
یہودیوں کی شرارت
8۔ عبدالرزاق و سعید بن منصور وعبد بن حمید و بخاری ومسلم وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ و بیہقی نے شعب میں عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ یہودی رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور کہا کہ ” السام علیکم “ اے ابو القاسم حضرت عائشہ نے یہ سن کر کہا اور تم پر موت ہو اور لعنت ہو آپ نے فرمایا اے عائشہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ فحش گوئی اور بدکلامی کو پسند نہیں فرماتے۔ میں نے کہا کیا آپ نے ان کو نہیں سنا جو وہ کہہ رہے تھے ” السام علیکم “ آپ پر موت ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تو نے نہیں سنا جو کچھ میں نے کہا یعنی ” وعلیکم “ (اور تم پر بھی ایسے ہو۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت واذا جاءوک حیوک بما لم یحیک بہ اللہ نازل فرمائی۔
9۔ عبدالرزاق وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ منافق جب رسول اللہ ﷺ کو سلام کرتے تو یوں کہتے تھے ” سام علیک “ تو یہ آیت نازل ہوئی۔
10۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے آیت واذا جاءوک حیوک بما لم یحیک بہ اللہ کے بارے میں روایت کیا کہ یہودی یوں کہتے تھے ” سام علیکم “ (تم پر موت ہو) ۔