تفسیر درِ منثور

Dure-Mansoor · 63. Al-Munaafiqoon · Ayah 5

  1. وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا یَسْتَغْفِرْ لَكُمْ رَسُوْلُ اللّٰهِ لَوَّوْا رُءُوْسَهُمْ وَ رَاَیْتَهُمْ یَصُدُّوْنَ وَ هُمْ مُّسْتَكْبِرُوْنَ﴿5﴾

    1. وَاور
    2. اِذَا قِيْلَ لَهُمْجب ان سے کہا جاتا ہے
    3. تَعَالَوْاآؤ
    4. يَسْتَغْفِرْ لَكُمْبخشش مانگتے ہیں تمہارے لیے
    5. رَسُوْلُ اللّٰهِاللہ کے رسول
    6. لَوَّوْاموڑتے ہیں
    7. رُءُوْسَهُمْاپنے سروں کو
    8. وَرَاَيْتَهُمْاور تم دیکھتے ہو ان کو
    9. يَصُدُّوْنَوہ باز رہتے ہیں
    10. وَهُمْ مُّسْتَكْبِرُوْنَاور وہ تکبر کرنے والے ہیں
Translation · Dure-Mansoor
اور جب ان سے کہا گیا کہ آجاؤ اللہ کا رسل تمہارے لیے استغفار کرے تو وہ اپنے سروں کو موڑ لیتے ہیں اور آپ انہیں دیکھیں گے کہ وہ تکبر کرتے ہوئے بےرخی کر رہے ہیں
Tafseer · Dure-Mansoor
1۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سفر میں جب کسی منزل پر اترتے تو اس جگہ سے روانہ نہ ہوتے ج تک اس میں نماز نہ پڑھتے۔ جب غزوہ تبوک ہوا تو آپ نے ایک مقام پر قیام فرمایا عبداللہ بن ابی منافق نے کہا گر ہم مدینہ طیبہ کی طرف لوٹ کر گئے تو ہم عزت والے وہاں سے ذلیل لوگوں کو ضرور نکال دیں گے۔ یہ بات رسول اللہ ﷺ کو پہنچی تو آپ وہاں سے روانہ ہوئے اور نماز نہیں پڑھی۔ صحابہ ؓ نے آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے ابن ابی کا واقعہ بیان فرمایا پھر قرآن بھی اس بارے میں نازل ہوا آیت اذا جاءک المنفقون قالوا نشہد انک لرسول اللہ۔ واللہ یعلم انک لرسولہ۔ پھر عبداللہ بن ابی، نبی مکرم ﷺ کے پاس آیا اور معذرت کرنے لگا اور قسمیں کھانے لگا کہ اس نے اس طرح نہیں کہا اور رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا توبہ کرے تو اس نے سر کو ہلانا شروع کیا اور توبہ نہیں کی تو اللہ عزوجل نے یہ آیت اتاری آیت واذا قیل لہم تعالوا یستغفرلکم رسول اللہ لووا رؤ و سہم اور ان سے کہا جاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آؤ تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ استغفار کریں تو وہ اپنے سر کو پھیر لیتے ہیں۔ 2۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے آیت واذا قیل لہم تعالوا یستغفرلکم رسول اللہ لوواؤ روسہم کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد عبداللہ بن ابی بن سلول ہے۔ اس سے کہا گیا آجا تیرے لیے رسول اللہ ﷺ استغفار کریں تو اس نے اپنے سر کو پھیرلیا۔ اور کہنے لگا میں نے کیا کہا ہے ؟ (کہ میں استغار کروں) 3۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے آیت واذا قیل لہم تعالوا یستغفرلکم رسول اللہ لووا رؤ و سہم کے بارے میں روایت کیا کہ انہوں نے اپنے سروں کو حرکت دی مذاق کرتے ہوئے۔ آیت کا شان نزول 4۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ یہ عبداللہ بن ابی کے بارے میں نازل ہوئی۔ اور یہ اس طرح ہوا کہ اس کے رشتہ داروں میں ایک بچہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس کی گفتگو اور سخت تکذیب کو لے کر اس پر رسول اللہ ﷺ نے اس کو بلایا۔ تو وہ قسمیں کھانے لگا اور اس سے اپنی براءت کا ظہار کرنے لگا اور انصار بھی اس بچے کے پاس آآ کر اس کو لعن طعن اور ملامت کرنے لگے۔ اور عبداللہ سے کہا گیا اگر رسول اللہ ﷺ کے پاس آجائے کہ تیرے لیے وہ استغفار کریں تو وہ اپنا سرگھمانے لگا اور کہنے لگا میں نے کچھ نہیں کیا مجھ پر جھوٹ باندھا گیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں جو تم سن رہے ہو۔ 5۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے الحکم کے طریق سے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ عبداللہ بن ابی سلول کا ایک بیٹا تھا۔ جس کو حباب کہا جاتا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کا نام عبداللہ رکھا۔ اس نے کہا یا رسول اللہ ! میرا باپ اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف دیتا ہے۔ مجھے اجازت دیجیے کہ میں اس کو قتل کردوں ؟ رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا اپنے باپ کو قتل مت کر۔ پھر وہ آیا اور کہا یا رسول اللہ میرا باپ اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف دیتا ہے۔ مجھے اجازت دیجیے کہ میں اس کق تل کروں ؟ آپ نے اس سے فرمایا کہ اس کو قتل مت کر نہ پھر وہ آیا اور کہا یا رسول اللہ ! میر اباپ اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف دیتا ہے مجھے اجازت دیجیے کہ میں اس کو قتل مت کر نہ پھر وہ آیا اور کہا یا ارسول اللہ ! میرا باپ اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف دیتا ہے مجھے اجازت دیجیے کہ میں اس کو قتل کردوں ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس کو قتل مت کر۔ پھر اس نے کہا یارسول اللہ مجھے اجازت دیں۔ یہاں تک کہ میں آپ کے وضو کا پانی اس کو پلاؤں شاید اس کا دل نرم ہوجائے۔ رسول اللہ ﷺ نے وضو فرمایا اور اس کو بچا ہوا پانی عطا فرمایا۔ وہ اپنے باپ کے پاس لے گیا اور اس کو پلایا پھر اس سے کہا کیا تو جانتا ہے کہ کونسا پانی میں نے تجھ کو پلایا۔ اس کے والد نے اس سے کہا کہ تو نے مجھے اپنی والدہ کا پیشاب پلایا ہے بیٹے نے اس سے کہا اللہ کی قسم ! میں نے تجھ کو رسول اللہ ﷺ کے وضو کا پانی پلایا ہے۔ عکرمہ ؓ نے کہا کہ عبداللہ بن ابی سردار اور قدر ومنزلت والا تھا اور یہ آیت اس کے بارے اور منافقین کے بارے میں اتاری گئی جو یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس جو لوگ ہیں ان پر خرچ نہ کرو یہاں تک کہ وہ بھاگ جائیں اور اس نے بھی یہ کہا تھا۔ اگر ہم مدینہ کی طرف لوٹ گئے تو ہم عزت والے ان ذلیل لوگوں کو ضرور نکال دیں گے۔ حکم نے کہا پھر مجھے بشرب بن مسلم نے بیان کیا کہ اس سے کہا گیا اے ابوحباب ! تیرے بارے میں سخت آیتیں نازل ہوئی۔ تو رسول اللہ ﷺ کے پاس جا تاکہ وہ تیرے لیے استغفار کریں تو اس نے اپنے سر کو ہلادیا پھر کہن لگا تم نے مجھے حکم دیا کہ میں ایمان لاؤں تو میں ایمان لے آیا اور تم نے مجھے حکم کیا کہ میں زکوٰۃ دوں اپنے مال میں سے تو میں نے وہ بھی ادا کری۔ اب صرف یہی بات باقی ہے کہ میں محمد ﷺ کو سجدہ کروں۔ عبداللہ بن ابی کا ذکر 6۔ بیہقی نے دلائل میں زہری (رح) سے روایت کیا کہ عبداللہ بن ابی کا ایک مقام تھا جس پر وہ ہر جمعہ کھڑا ہوتا تھا اور وہ اس مقام کو اپنی ذات اور اپنی قوم میں باعث شرف ہونے کی وجہ سے کبھی نہ چھوڑتا تھا۔ جب رسول اللہ ﷺ جمعہ کے خطبہ کے لیے بیٹھ جاتے تو یہ کھڑا ہو کر کہتا اے لوگو ! یہ اللہ کے رسول ہیں تہارے درمیان ان کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں عزت عطا فرمائی اور ان کے سبب تمہیں غلبہ عطا فرمایا پس تم ان کی مدد کرو اور ان کی تعظیم کرو۔ اور ان کی بات کو سنو اور اطاعت کرو۔ پھر وہ بیٹھ جاتا۔ جب رسول اللہ ﷺ احد سے واپس تشریف لائے تو وہاں اس منافق نے جو کچھ کیا سو کیا تو یہ اٹھ کر وہی کچھ کرنے لگا جو کیا کرتا تھا تو مسلمانوں نے اس کے کپڑے کے کناروں سے پکڑ لیا۔ اور کہا اے اللہ کے دشمن بیٹھ جا۔ تو اس مقام کے لائق نہیں تو نے جو کچھ کیا ہے سو کیا ہے تو وہ لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا نکل گیا اور وہ کہہ رہا تھا اللہ کی قسم میں بہت عمدہ ات کہتا، میں کھڑا ہو کر اس کے کام کو درست قرار دیتا اور اسے پختہ اور مضبوط کرتا تھا تو ایک آدمی نے اسے کہا تیری بربادی ہو تو واپس لوٹ جا۔ تاکہ رسول اللہ ﷺ تیرے لیے استغفار کریں تو مناق نے کہا اللہ کی قسم ! میں نہیں چاہتا کہ وہ میرے لیے استغفار کریں۔