تفسیر درِ منثور
Dure-Mansoor · 63. Al-Munaafiqoon · Ayah 9
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُلْهِكُمْ اَمْوَالُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ﴿9﴾
- يٰٓاَيُّهَااے
- الَّذِيْنَ اٰمَنُوْالوگو ! جو ایمان لائے ہو
- لَا تُلْهِكُمْنہ غافل کریں تم کو
- اَمْوَالُكُمْمال تمہارے
- وَلَآ اَوْلَادُكُمْاور نہ اولاد تمہاری
- عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِاللہ کے ذکر سے
- وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَاور جو کوئی ایسا کرے گا
- فَاُولٰٓئِكَتو یہی لوگ
- هُمُ الْخٰسِرُوْنَوہ ہیں جو خسارہ پانے والے ہیں
Translation · Dure-Mansoor
اے ایمان والو ! تمہارے امول اور اولاد تمہیں اللہ کے ذکر سے غافل نہ کردیں، اور جو شخص ایسا کرے گا سو یہ لوگ وہ ہی جو نقصان میں پڑنے والے ہیں
Tafseer · Dure-Mansoor
1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ آیت یا ایہالذین اٰمنوا لا تلہکم اموالکم ولا اولادکم۔ اے ایمان والو ! تم کو تمہارے مال اور تمہاری اولاد سے (اللہ کی یاد سے غافل نہ کرے) سے مراد میری امت میں سے جو نیک بندے ہیں کہ ان کو تجارت اور خریدو فروخت اللہ کے ذکر سے اور پانچوں فرض نمازوں سے غافل نہیں کرے گی۔
2۔ عبد بن حمید والترمذی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والطبرانی وابن مردوی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ آدمی جس کے پاس اتنا مال تھا کہ وہ بیت اللہ کا حج کرسکتا تھا۔۔ یا اس پر مال میں زکوٰۃ فرض تھی۔ اگر اس نے ایسا نہ کیا تو موت کے وقت وہ دنیا میں دوبارہ لوٹنے کا سوال کرے گا۔ ایک آدمی نے ان سے کہا۔ اے ابن عباس ؓ اللہ سے ڈرو۔ کافر لوٹنے کا سوال کرے گا۔ تو انہوں نے فرمایا عنقریب میں تم پر اس کے ذریعہ قرآن پر پڑھوں گا اور یہ آیت تلاوت فرمائی آیت یا ایہا الذین اٰمنوا لتلہکم اموالکم ولا اولادکم عن ذکر اللہ۔ اے ایمان والو ! تم کو تمہارے مال اور تمہاری اولاد اللہ کے ذکر سے غافل نہ کردیں۔ سے لے کر سورة کے آخر تک۔
3۔ ابن جریر نے دوسری سند سے ابن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت یا ایہا الذین اٰمنوا لاتلہکم اموالکم ولا اولادکم عن ذکر اللہ الایۃ کے بارے میں روایت کیا کہ وہ مومن مرد جب اس پر موت آئی اور اس کا مال تھا اور نہ اس نے مال کی زکوٰۃ دی تھی اور اس سے حج کیا تھا اور نہ اس نے اللہ کا کوئی اور حق اس میں سے ادا کیا تھا تو وہ موت کے وقت واپس لوٹائے جانے کی آرزو کرے گا۔ تاکہ وہ اپنے مال میں سے صدقہ اور زکوٰۃ ادا کرسکے۔ تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے آیت ولن یوخر اللہ نفسا اذا جاء اجلہا اور ہرگز کوئی جان موخر نہیں ہوتی جب اس کا وقت آجائے۔
4۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے ضحاک ؓ سے وایت کیا کہ آیت لاتلہکم اموالکم ولا اولادکم عن ذکر اللہ کہ اس میں ذکر اللہ سے مراد پانچ نمازیں ہیں۔ اور فرمایا آیت وانفقوا من مارزقنکم۔ اور تم خرچ کرو ان چیزوں میں جو ہم نے تم کو رزق دیا یعنی زکوٰۃ میں اور حج میں خرچ کرنا۔
5۔ ابن المنذر والبیہقی نے شعب الایمان میں عطا (رح) سے روایت کیا کہ آیت لاتلہکم اموالکم ولا اولادکم عن ذکر اللہ میں ذکر اللہ سے مراد ہے فرض نماز۔
6۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت فاصدق میں صدقہ کرلیتا یعنی میں زکوٰۃ ادا کروں۔ آیت واکن من الصلحین اور نیک کام کرنے والوں میں شامل ہوجاتا یعنی میں حج ادا کرلوں۔