تفسیر درِ منثور

Dure-Mansoor · 63. Al-Munaafiqoon · Ayah 10

  1. وَ اَنْفِقُوْا مِنْ مَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ فَیَقُوْلَ رَبِّ لَوْ لَاۤ اَخَّرْتَنِیْۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِیْبٍ١ۙ فَاَصَّدَّقَ وَ اَكُنْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ﴿10﴾

    1. وَاَنْفِقُوْااور خرچ کرو
    2. مِنْ مَّا رَزَقْنٰكُمْاس میں سے جو رزق دیا ہم نے تم کو
    3. مِّنْسے
    4. قَبْلِاس (سے) پہلے
    5. اَنْ يَّاْتِيَکہ آجائے
    6. اَحَدَكُمُ الْمَوْتُتم میں سے کسی ایک کو موت
    7. فَيَقُوْلَ رَبِّتو کہے، اے میرے رب
    8. لَوْلَآکیوں نہ
    9. اَخَّرْتَنِيْٓتو نے ڈھیل دی مجھ کو
    10. اِلٰٓى اَجَلٍایک وقت تک
    11. قَرِيْبٍقریب کے
    12. فَاَصَّدَّقَتو میں صدقہ کرتا۔ خیرات دیتا
    13. وَاَكُنْ مِّنَاور میں ہوجاتا ، سے
    14. الصّٰلِحِيْنَنیکیوں میں (سے)
Translation · Dure-Mansoor
اور جو کچھ ہم نے تمہیں دیا اس میں سے خرچ کرو اس سے پہلے کہ تمہیں موت آجائے سو وہ کہے گا کہ میرے رب ! آپ نے تھوڑی مدت کے لیے مجھے کیوں مہلت نہ دی میں صدقہ کرتا اور صالحین میں سے ہوجاتا
Tafseer · Dure-Mansoor
7۔ عبد بن حمید نے حسن سے روایت کیا اور انہوں نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے یہ آیت پڑھی آیت فاصدق واکن من الصلحین یعنی میں حج ادا کرلوں۔ 8۔ عبد بن حمید نے حسن سے روایت کیا اور انہوں نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا آیت فاصدق واکن من الصلحن واو کے ساتھ۔ 9۔ ابن الانباری نے المصاحف میں زید بن ثابت (رح) سے روایت کیا کہ قراءت کرنا سنتوں میں سے ایک سنت ہے اور تم قرآن کو اس طرح پڑھ وجی سے تم کو پڑھایا گیا ہے جیسے آیت ان ہذان لسحرا (طہ آیت 63) اور آیت فاصدق واکن من الصلحین۔ الحمد للہ سورة المنافقون مکمل ہوئی۔ سورۃ التغابن۔ یہ سورة مدنی ہے اور اس کی اٹھارہ آیات ہیں 1۔ ابن الضریس وابن مردویہ اور بیہقی نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة تغابن مدینہ منورہ میں نازل ہوئی۔ 2۔ ابن مردویہ نے ابن الزبیر ؓ سے روایت کیا کہ سورة تغابن مدینہ منورہ میں نازل ہوئی۔ 3۔ النحاس نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة تغابن مکہ میں نازل ہوئی مگر اس کے آخر میں سے چند آیات مدینہ منورہ میں نازل ہوئی۔ عوف بن مالک اشجعی ؓ کے بارے میں جنہوں نے نبی اکرم ﷺ کی طرف اپنے گھروالوں اور اپنی اولاد کی جفا کے بارے میں شکایت کی تھی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آیت یا ایہا الذین اٰمنوا ان من ازواجکم واولادکم عدوا لکم فاحذروھم اے ایمان والو تمہاری بعض بیویاں اور اولاد تمہارے دین کے دشمن ہیں سو ان سے ہوشیار رہو سورة کے آخر تک۔ 4۔ ابن اسحاق وابن جریر نے عطا بن یسار (رح) سے روایت کیا کہ سورة تغابن ساری کی ساری مکہ میں نازل ہوئی۔ سوائے ان آیات کے یعنی یا ایہالذین اٰمنو ان من ازواکم واولادکم اور یہ آیت عوف بن مالک اشجعی ؓ کے بارے میں نازل ہوئی وہ گھروالے اور بچوں والے تھے۔ جب وہ کسی غزوۂ میں جانے کا ارادہ کرتے تھے تو وہ ان کی طرف رونے لگتے تھے۔ اور ان کے دل کو نرم کردیتے تھے۔ اور کہنے لگتے کہ تو ہم کو کس کے پاس چھوڑے گا تو ان کے بارے میں یہ آیات مدینہ میں نازل ہوئیں۔