تفسیر درِ منثور

Dure-Mansoor · 70. Al-Ma'aarij · Ayah 4

  1. تَعْرُجُ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ الرُّوْحُ اِلَیْهِ فِیْ یَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗ خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَةٍۚ﴿4﴾

    1. تَعْرُجُچڑھتے ہیں
    2. الْمَلٰٓئِكَةُفرشتے
    3. وَالرُّوْحُاور روح
    4. اِلَيْهِاس کی طرف
    5. فِيْ يَوْمٍایک دن میں
    6. كَانَ مِقْدَارُهٗہے اس کی مقدار
    7. خَمْسِيْنَپچاس
    8. اَلْفَ سَنَةٍہزار سال
Translation · Dure-Mansoor
فرشتے اور روحیں اس کی طرف چڑھ کر جاتی ہیں یہ عذاب اس دن واقع ہوگا جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے
Tafseer · Dure-Mansoor
13۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو اس طرح پڑھا آیت یعرج الملئکۃ تاء کے ساتھ۔ 14۔ عبد بن حمید نے ابو اسحاق (رح) سے روایت کیا کہ عبداللہ ؓ آیت تعرج المئکۃ یاء کے ساتھ پڑھتے تھ۔ 15۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت فی یوم کان مقدارہ خمسین الف سنۃ اس دن کی مقدار پچاس ہزار سال ہے سے مراد ہے کہ اس امر کی انتہا زمینوں کے نیچے سے لے کر ساتویں آسمانوں کے اوپر کی انتہا تک ہے۔ اور فرمایا آیت مقدارہ خمسین الف سنۃ اور اس دن کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہے اور وہ دن جس کی مقدار ایک ہزار سال ہے یعنی آسمانوں سے زمین کی طرف نازل ہونے اور زمین سے آسمان کی طرف امر کا بلند ہونا ایک دن میں ہے اور اس کی مقدار ہے ایک ہزار سال ہے کیونکہ آسمان اور زمین کے درمیان پانچ سو سال کا راستہ ہے۔ 16۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہر زمین کی موٹائی پانچ سو سال کی ہے اور اس طرح چودہ ہزار سال میں کیونکہ ساتوں آسمان اور عرش کے درمیان چھتیس ہزار سال کا فاصلہ ہے۔ اسی کو فرمایا آیت فی یوم کان مقدارہ خمسین الف سنۃ۔ 17۔ ابن المنذر اور بیہقی نے البعث والنشور میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت فی یوم کان مقدارہ خمسین الف سنۃ اس دن میں ج کی مقدار ایک ہزار سال ہوگی تمہاری گنتی سے۔ سے مراد ہے کہ یہ مقدار دنیا کی ہے اور فرمایا تعرف المئکۃ والروح الیہ فی یوم کان مقدارہ خمسین الف سنۃ۔ اور آیت فی یوم کان مقدرہ خمسین الف سنۃ کہ ان دونوں آیات سے قیامت کا دن مراد کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو کافروں کے لیے پچاس ہزار سال کے برابر بنایا ہے۔ 18۔ ابن ابی حاتم اور بیہقی نے البعث میں ابن عباس ؓ سے آیت فی یوم کان مقدرہ خمسین الف سنۃ کے بارے میں روایت کیا کہ اگر تم اس کا اندازہ لگاؤ تو تمہارے دنیا کے دنوں کے مطابق پچاس ہزار سال کا وہ دن ہے یعنی قیامت کا دن۔ 19۔ ابن مردویہ نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے ابن عباس ؓ سے ان آیات کے بارے میں پوچھا یعنی یہ آیات فی یوم کان مقدارہ خمسین الف سنۃ۔ ویدبر الامر من السماء الی الارض۔ اور ہو کام کی تدبیر کرتا ہے آسمان سے زمین کی طرف پھر اس کی طرف عروج کرتا ہے۔ آیت یوم کان مقدارہ الف سنۃ مما تعدون۔ اور آیت ویستعجلونک بالعذاب ولن یخلف اللہ وعدہ۔ وان یوم عند ربک کالف سنۃ مما تعدون۔ اور وہ جلدی کرتے ہیں آپ سے عذاب کی اور اللہ تعالیٰ ہرگز اپنے وعدہ کی خلاف ورزی نہیں فرمائیں گے اور ایک دن تیرے رب کے نزدیک گویا کہ ایک ہزار سال ہے تمہارے گنتی سے پھر فرمایا قیامت کے دن کا حساب پچاس ہزار سال ہے اور اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا گیا چھ دنوں میں اور ہر دن ہزار سال کا تھا اور وہ کام تدبیر کرتا ہے آسمان سے زمین کی طرف۔ پھر وہ اس کی طرف عروج کرتا ہے۔ آیت فی یوم کان مقدارہ الف سنۃ اس دن میں جس کی مقدار ہزار سال ہے اور یہ مدت مسافت ہے۔ 20۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے مجاہد و عکرمہ رحمہما اللہ سے آیت فی یوم کان مقدارہ خمسین الف سنۃ کے یہ دنیا اپنی ابتداء سے لے کر اپنی انتہاء تک ایک دن ہے جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہوگی قیامت کے دن۔ 21۔ عبد الرزاق وعبد بن حمید وابو الشیخ نے العظمہ میں وہب بن منبہ (رح) سے روایت کیا کہ یہ مسافت زمین کے نیچے سے لے کر عرش تک ہے۔ 22۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے آیت فی یوم کان مقدارہ خمسین الف سنۃ کے بارے میں روایت کیا کہ قیام کے دن کی مقدار پچاس ہزار سال ہوگی۔ قیامت کا دن کتنا لمبا ہوگا 23۔ احمد وابو یعلی وابن جریر وابن حبان اور بیہقی نے البعث میں ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے آیت فی یوم کان مقدارہ خمسین الف سنۃ کے بارے میں پوچھا گیا کہ کتنا لمبا یہ دن ہوگا۔ تو آپ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے البتہ یہ دن مومن کے لیے انتہائی ہلکا ہوگا۔ یہاں تک کہ اس فرض نماز سے بھی اس پر زیادہ ہلکا ہوگا جو وہ اس کو دنیا میں پڑھتا ہے۔ 24۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے ابراہیم تیمی (رح) سے روایت کیا کہ قیامت کے دن اتنی مقدار ہوگی جتنی ظہر اور عصر کے درمیانی وقت ہے۔ 25۔ عبد بن حمید نے عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت کیا کہ قیامت کے دن کی بےچینی سخت ہوگی یہاں تک کہ کافر کو پسینے کی لگام دی جائے گی پوچھا گیا اس دن مومن کہاں ہوں گے ؟ فرمایا ان کے لیے سونے کی کرسیاں رکھی جائیں گی اور ان پر بادلوں کا سایہ کیا جائے گا اور ان پر اس دن کو چھوٹا کردیا جائے گا اور یہ آسان کردیا جائے گا یہاں تک کہ ایک دن کی طرح ہوجائے گا تمہارے ان دنوں میں سے۔ 26۔ عبد بن حمید نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ وہ دن ان پر ایک فرض نماز کی طرح ہوجائے گا۔ یعنی وہ پچاس ہزار کا دن ایک فرض نماز کے پڑھنے کے وقوت کے برابر ہوجائے گا۔ 27۔ ابن ابی حاتم والحاکم و بیہقی نے البعث میں ابوہریرہ ؓ سے مرفوعا روایت کیا کہ قیامت کا دن ایمان والوں پر صرف اتنا لمبا ہوگا جتنا ظہر اور عصر کے درمیان وقت ہے۔