تفسیر درِ منثور

Dure-Mansoor · 70. Al-Ma'aarij · Ayah 44

  1. خَاشِعَةً اَبْصَارُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ١ؕ ذٰلِكَ الْیَوْمُ الَّذِیْ كَانُوْا یُوْعَدُوْنَ۠ع﴿44﴾

    1. خَاشِعَةًدبی ہوئی ہوں گی۔ جھکی ہوئی ہوں گی
    2. اَبْصَارُهُمْان کی نگاہیں
    3. تَرْهَقُهُمْچھا رہی ہوں گی ان پر
    4. ذِلَّةٌذلت
    5. ذٰلِكَیہ ہے
    6. الْيَوْمُدن
    7. الَّذِيْجو
    8. كَانُوْاوہ تھے
    9. يُوْعَدُوْنَوعدہ کیے گئے
Translation · Dure-Mansoor
ان کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی ان پر ذلت چھائی ہوئی ہوگی یہ وہ دن ہوگا جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا تھا
Tafseer · Dure-Mansoor
40۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت یوم یخرجون من الاجداث جس دن وہ قبروں سے نکلیں گے یعنی قبروں سے آیت کانہم الی نصب یوفضون یعنی ایک نشانی کی طرف دوڑ رہے ہیں۔ ذلک الیوم الذی کانوا یوعدون۔ یی وہ دن ہے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا تھا اور وہ قیامت کا دن ہے۔ 41۔ عبد بن حمید نے ابوالعالیہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے آیت الی نصب کو واحد معنی کے مطاق منصوب پڑھا۔ 42۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو یوں پڑھا الی نصب یعنی خفیف اور نون کے نصب کے ساتھ۔ ایک ہی معنی پر۔ 43۔ عبد بن حمید نے ابی الاشہب سے روایت کیا اور انہوں نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس کو آیت خاشعۃ ابصارہم پڑھتے تھے یعنی ان کی نگاہیں جھکی ہوں گی اور ابو رجاء (رح) اس کو خاشعۃ ابصارہم پڑھتے تھے۔ واللہ اعلم۔