تفسیر درِ منثور

Dure-Mansoor · 72. Al-Jinn · Ayah 18

  1. وَّ اَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰهِ فَلَا تَدْعُوْا مَعَ اللّٰهِ اَحَدًاۙ﴿18﴾

    1. وَّاَنَّاور یہ کہ
    2. الْمَسٰجِدَمسجدیں
    3. لِلّٰهِاللہ کے لئے
    4. فَلَا تَدْعُوْاتو تم نہ پکارو (بندگی نہ کرو)
    5. مَعَ اللّٰهِاللہ کے ساتھ
    6. اَحَدًاکسی کو
Translation · Dure-Mansoor
اور بلاشبہ سب سجدے اللہ ہی کے لیے سو تم اللہ کے ساتھ کسی کو بھی مت پکارو
Tafseer · Dure-Mansoor
25۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وان المسجد للہ اور بلاشبہ مسجدیں اللہ کے لیے ہیں سے مراد ہے کہ جس دن یہ آیت نازل ہوئی زمین پر سوائے مسجد حرام اور مسجد ایلیا یعنی بیت المقدس کے اور کوئی مسجد نہ تھی۔ 26۔ ابن ابی حاتم نے اعمش (رح) سے روایت کیا کہ جنات نے کہا یا رسول اللہ ! ہم کو اجازت دیجیے کہ ہم آپ کے ساتھ نمازوں میں آپ کی مسجد میں حاضر ہوا کریں تو اللہ تعالیٰ یہ آیت نازل فرمائی آیت وا المسجد للہ فلا تدعوا مع اللہ احدا اور بیشک مسجدیں اللہ کے لیے ہیں بس تم اللہ کے ساتھ کسی کو نہ پکارو۔ یعنی نماز پڑھو اور لوگوں کے ساتھ اختلاط نہ رکھو۔ 27۔ ابن جریر نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ جنات نے نبی ﷺ سے کہا ہمارے لیے کیسے ممکن ہے کہ ہم مسجد میں آئیں اور ہم آپ سے بہت دور ہیں یا یوں فرمایا ہم کس طرح نماز میں حاضر ہوسکتے ہیں حالانکہ ہم آپ سے بہت دور ہیں تو یہ آیت نازل ہوئی آیت وان المسجد للہ۔ الایۃ۔ عبادت صرف اللہ تعالیٰ کی ہونا لازم ہے۔ 28۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے آیت وان المساجد للہ کے بارے میں روایت کیا کہ یہود و نصاری جب اپنے عبادت گھروں میں داخل ہوئے تو اپنے رب کے ساتھ شریک کرتے تو ان کو حکم دیا گیا کہ وہ اس کی وحدانیت بیان کیا کریں۔ 29۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وان المساجد للہ فلا تدعوا مع اللہ احدا۔ سے مراد ہے کہ یہود اور نصاریٰ جب اپنی عبادت گاہوں اور گرجاگھروں میں داخل ہوتے تو اللہ کے ساتھ شرک کرتے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی مکرم ﷺ کو حکم فرمایا کہ جب آپ مسجد میں داخل ہوں تو عبادت خالص اللہ کے لیے کرو۔