تفسیر درِ منثور
Dure-Mansoor · 72. Al-Jinn · Ayah 19
وَّ اَنَّهٗ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰهِ یَدْعُوْهُ كَادُوْا یَكُوْنُوْنَ عَلَیْهِ لِبَدًا٢ؕ۠ع﴿19﴾
- وَّاَنَّهٗ لَمَّااور یہ کہ جب
- قَامَ عَبْدُ اللّٰهِکھڑا ہوا اللہ کا بندہ
- يَدْعُوْهُکہ وہ اس کی عبادت کرے
- كَادُوْاقریب تھا
- يَكُوْنُوْنَوہ ہوجائیں
- عَلَيْهِاس پر
- لِبَدًا(حلقہ در حلقہ)
Translation · Dure-Mansoor
اور بیشک بات یہ ہے کہ جب اللہ کا بندہ کھڑا ہوتا ہے کہ وہ اسے پکارے تو یہ لوگ اس کے اوپر جمگھٹا لگانے والے بن جاتے ہیں
Tafseer · Dure-Mansoor
1۔ ابو نعیم نے دلائل میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ ہجرت سے پہلے رسول اللہ ﷺ مکہ کے اطراف کی طرف ہمارے ساتھ تشریف لے گئے اور میرے ارد گرد ایک خط کھینچ دیا اور فرمایا تو کسی قسم کی بات نہ کرنا یہاں تک کہ میں تیرے پاس آجاؤں پھر فرمایا ہرگز کوئی چیز تجھ کو خوف زدہ نہ کرے جس کو تو دیکھے پھر آپ کچھ آگے بڑھ کر بیٹھ گئے۔ وہاں کالے رنگ کے آدمی تھے گویا کہ وہ زط قبیلہ کے لوگ ہیں اور وہ ایسے ہی تھے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت کادوا یکونون علیہ لبدا۔ وہ لوگ ان پر جھمگٹا کر رہے تھے۔
2۔ ابن جریر وابن امردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وانہ لما قام عبداللہ یدعوہ کا دو یکونون علیہ لبدا۔ اور جب اللہ کا بندہ نبی اس کو پکارنے کھڑا ہوتا ہے تو لوگ اس پر جھمگٹا کرنے لگتے ہیں یعنی جب ان لوگوں نے نبی ﷺ کو قرآن پڑھتے ہوئے سنا قریب تھا کہ وہ لوگ حرص کی وجہ سے آپ پر سوار ہوجاتے۔ جب انہوں نے آپ کو قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے سنا اور وہ آپ سے بالکل قریب ہوجاتے لیکن آپ نہ جانتے یہاں تک کہ آپ کے پاس ایک قاصد یعنی جبرئیل (علیہ السلام) آیا اور اس نے آپ کو پڑھ کر سنایا آیت قل اوحی الی انہ استمع نفر من الجن۔ کہہ دو کہ مجھے اس بات کی وحی آئی ہے کہ کچھ جن مجھ سے قرآن پڑھتے سن گئے تھے۔
3۔ ابن ابی حاتم نے زبیر بن عوام ؓ سے اسی طرح روایت کیا کہ
4۔ عبد بن حمید والترمذی والحاکم وصححہ وابن جریر وابن مردویہ اور ضیاء نے المختارہ میں ابن عباس ؓ سے آیت وانہ لما قام عبداللہ یدعوا کادوا یکونون علیہ لبدا۔ کے بارے میں روایت کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ کے پاس جن آئے تو آپ اپنے اصحاب ؓ کو نماز پڑھا رہے تھے۔ وہ آپ کے رکوع کے ساتھ رکوع کرتے تھے اور آپ کے سجدوں کے ساتھ سجدے کرتے تھے۔ تو انہوں نے آپ کے صحابہ کرام ؓ کو آپ کی اطاعت کو دیکھ کر تعجب کیا۔ اور اپنی قوم سے کہا آیت وانہ لما قام عبداللہ یدعوہ کادوا یکونون علیہ لبدا۔
5۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے آیت وانہ لما قام عبداللہ یدعوہ کے بارے میں روایت کیا کہ اس میں یدعوہ سے مراد ہے یدعوا الیہ یعنی جب اللہ کا خاص بندہ کھڑا ہوتا ہے تاکہ اس کی طرف دعوت دے۔
6۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے آیت وانہ لما قام عبداللہ یدعوہ کدوا یکونون علیہ لبدا۔ کے بارے میں روایت کیا کہ اس میں یدعوہ سے مراد ہے یدعو الیہ یعنی جب اللہ کا خاص بندہ کھڑا ہوتا ہے تاکہ اس کی طرف دعوت دے
6۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے آیت وانہ لما قام عبداللہ یدعوہ کادوا یکونون علیہ لبدا۔ کے بارے میں روایت کیا کہ جب اللہ کے نبی کھڑے ہوئے۔ تو انسان اور جن اس کام پر کھڑے ہوگئے تاکہ وہ اسے یعنی اللہ کے دین کو بجھا دیں مگر اللہ تعالیٰ نے انکار کیا۔ اور ان کی مدد فرمائے گا اور ان پر غالب کرے گا جو بھی آپ سے دشمنی رکھے گا۔
7۔ عبد بن حمد حمید وابن المنذر نے حسن (رح) سے آیت وانہ لما قام عبداللہ یدعوہ کے بارے میں روایت کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے فرما رہے تھے۔ لا الہ الا اللہ اور لوگوں کو ان کے رب کی طرف بلا رہے تھے قریب تھا کہ عرب کے لوگ آپ پر اکٹھے ہو کر ہجوم کرلیں۔
8۔۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت کا دو ایکونون علیہ لبدا یعنی وہ لوگ اپنے ساتھیوں اور مددگاروں سمیت آپ پر آجاتے ہیں۔
9 عبد بن حمید نے ابوبکر کے طریق سے ابو عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں اس طرح پڑھا آیت یکونون علیہ لبدا۔ لام کے کسرہ اور باء کے فتحہ کے ساتھ اور سورة البلد آیت لا اقسم بہذا البلد اور مالا لبدا۔ میں لام کے رفع اور باء کے نصب کے ساتھ پڑھا اور ابوبکر ؓ نے اس کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا آیت لبدا کے دو معنی مراد ہیں لبدا یعنی کثیر اور زیادہ ہونا اور لبدا کا معنی ہے بعض کا بعض پر ہونا یعنی تہہ بہ تہہ ہونا۔