تفسیر درِ منثور

Dure-Mansoor · 72. Al-Jinn · Ayah 17

  1. لِّنَفْتِنَهُمْ فِیْهِ١ؕ وَ مَنْ یُّعْرِضْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهٖ یَسْلُكْهُ عَذَابًا صَعَدًاۙ﴿17﴾

    1. لِّنَفْتِنَهُمْتاکہ ہم انہیں آزمائیں
    2. فِيْهِ ۭاس میں
    3. وَمَنْاور جو
    4. يُّعْرِضْروگردانی کریگا
    5. عَنْ ذِكْرِیاد سے
    6. رَبِّهٖاپنے رب کی
    7. يَسْلُكْهُوہ اسے داخل کریگا
    8. عَذَابًاعذاب
    9. صَعَدًاسخت
Translation · Dure-Mansoor
تاکہ ہم اس میں ان کا امتحان کریں اور جو شخص اپنے رب کے ذکر سے اعراض کرے وہ اسے چڑھتے ہوئے عذاب میں داخل فرمائے گا
Tafseer · Dure-Mansoor
18۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت لنفتنہم فیہ تاکہ اس میں ہم ان کا امتحان کری یعنی ہم ان کو اس کے ذریعہ آزمائیں اور اللہ تعلایٰ نے فرمایا آیت ومن یعرض عن ذکر ربہ یسل کہ عذاب صعدا۔ اور جس نے اپنے رب کی یاد سے منہ موڑا تو وہ اسے سخت عذاب میں ڈالے گا۔ یعنی سخت ہوگا عذاب اور وہ اس میں اوپر چڑھتا جائے گا۔ 19۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت لنفتنہم فیہ تاکہ ہم ان کو آزمائیں یہاں تک کہ وہ اس کی طرف لوٹ آئیں جو کچھ ان پر فرض کیا گیا اور فرمایا آیت عذابا صعدا۔ یعنی عذاب کی مشقت اور سختی۔ 20۔ ہناد وعبد بن حمید وابن المنذر والحاکم لوصححہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت یسل کہ عذابا صعدا تو اسے سخت عذاب میں ڈالے گا۔ صعد جہنم میں ایک پہاڑ ہے۔ 21۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت عذابا صعدا سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے دئیے جانے والے عذاب میں اتنی شدت اور سختی ہوگی کہ اس میں کوئی راحت نہ ہوگی۔ 22۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ عذابا صعدا سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ کہ عذاب کی ایسی چڑھائی ہے جس میں کوئی راحت اور سکون نہیں ہوگا۔ 23۔ ہنادنے مجاہد و عکرمہ رحمہما اللہ سے روایت کیا کہ عذابا صعدا سے مراد ہے مشقت والا عذاب 24۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو یوں پڑھا یسل کہ یاء کے ساتھ