تفسیر درِ منثور
Dure-Mansoor · 72. Al-Jinn · Ayah 8
وَّ اَنَّا لَمَسْنَا السَّمَآءَ فَوَجَدْنٰهَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِیْدًا وَّ شُهُبًاۙ﴿8﴾
- وَّاَنَّااور یہ کہ ہم
- لَمَسْنَاہم نے چھوا (ٹٹولا)
- السَّمَآءَآسمان
- فَوَجَدْنٰهَاتو ہم نے اسے پایا
- مُلِئَتْبھرا ہوا
- حَرَسًاپہریدار
- شَدِيْدًاسخت
- وَّشُهُبًااور شعلے
Translation · Dure-Mansoor
اور بلاشبہ ہم نے آسمان کی تلاشی لینا چاہا تو ہم نے اسے اس حال میں پایا کہ وہ سخت پہرہ سے اور شعلوں سے بھرا ہوا ہے
Tafseer · Dure-Mansoor
29۔ عبد بن حمید نے عبد بن حمید (رح) سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت انا لمسنا السماء فوجدنہا ملئت حرسا شدید وشہبا کے بارے میں روایت کیا کہ جنات آسمان کی خبریں سن لیتے تھے۔ جب اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو بھیجا تو آسمان پر پہرہ لگادیا اور ان کو اس روک دیا گیا۔ جناب بذات خود اس کی تلاش کرنے لگے راوی نے کہا اور ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ جنات کے سردار اور معززین نصیبین کے مقام موصل کی سرزمین میں تھے۔ انہوں نے اس کی جستجو کی اور خوب نظر دوڑائی یہاں تک کہ وہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچے۔ اور آپ ﷺ اپنے صحابہ کرام ؓ کو عکاظ کی طرف جاتے ہوئے راستے میں نماز پڑھا رہے تھے۔
30۔ ابن ابی شیبہ واحمد وعبد بن حمید والترمذی وصححہ والنسائی وابن جریر والطبرانی وابن مردویہ وابو نعیم نے معاً دلائل النبوۃ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ شیاطین کی آسمان میں بیٹھنے کی جگہی تھیں کہ وہاں بیٹھ کر وہ وحی کو سنتے تھے۔ جب وہ کسی کلمہ کو سنتے تھے تو اس میں نو کلمات کو زیادہ کردیتے تھے۔ تو وہ ایک کلمہ تو سچا ہوجاتا۔ اور جو اس میں اضافہ کرتے وہ جھوٹ ہوتا۔ جب رسول اللہ ﷺ مبعوث ہوئے تو ان کو ان کی جگہوں سے روک دیا گیا۔ انہوں نے ابلیس کو یہ بات بتلائی اور اس سے پہلے ان پر ستارے نہیں پھینکے جاتے تھے۔ ابلیس نے ان سے کہا یہ حکم کسی خاص واقعہ کے سبب ہوا جو زمین میں پیش آیا تو اس نے اپنے لشکروں کو بھیجا، تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو نماز میں پڑھتے ہوئے پایا نخلہ کے دو پہاڑوں کے درمیان وہ واپس ان کے پاس آئے اور اس کو بتایا تو ابلیس نے کہا یہ وہی واقعہ ہے جو زمین میں رونما ہوا۔
جنات کو آسمان پر جانے سے روک دیا
31۔ ابن جریر وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جنات کی آسمان میں بیٹھنے جگہیں تھیں جس کی وجہ سے وہ وحی کو سن لیتے تھے اور یہی سلسلہ جاری تھا کہ اچانک رسول اللہ ﷺ کی بعثت ہوئی تو شیاطین کو آسمان سے دور ہٹا دیا گیا اور ستاروں کے سبب ان کو بھگا دیا گیا اب جو کوئی ان میں اوپر چڑھتا ہے تو وہ جل جاتا ہے اور زمین والے گھبراگئے۔ جب انہوں نے ستاروں کو دیکھا اور ایسا اس سے پہلے نہیں ہوتا تھا۔ ابلیس نے کہا کوئی واقعہ زمین میں پیش آگیا ہے پھر ہر طرف سے زمین کی مٹی لائی گئی اور اس نے اس کو سونگھا اور تہامہ کی مٹی کو سونگ کر کہا یہاں کوئی نئی بات پیش آئی ہے جنات میں سے ایک جماعت اس کی طرف بھیجی اور یہ وہ جماعت تھی جنہوں نے قرآن کو سنا۔
32۔ ابن جریر وابن مردویہ اور بیہقی نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ عیسیٰ اور محمد (علیہما السلام) کے درمیان زمانہ فترت میں آسمان دنیا پر کوئی پہرہ نہ ہوتا تھا اور وہ وہاں بیٹھنے کی جگہوں میں بیٹھا کرتے تھے آسمانی باتیں سننے کے لیے جب اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو مبعوث فرمایا تو آسمان پر سخت پہرہ لگادیا اور شیطانوں کو بھگادیا گیا تو انہوں نے اس کا انکار کرتے ہوئے کہا آیت توانا لا ندری اشر ارید بمن فی الارض ام اراد بہم ربہم رشدا۔ ا اور ہم نہیں جانتے کہ زمین والوں کے ساتھ نقصان کا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کے نسبت ان کے رب نے راہ راست پر لانے کا ارادہ کیا ہے۔ ابلیس نے کہا کہ یقینی طر پر زمین میں کوئی حادثہ واقع ہوا ہے تو اس کی طرف جنات اکٹھے ہوئے۔ تو ابلیس نے کہا زمین میں پھیل جاؤ اور مجھے خبردو کہ یہ کیا حادثہ ہے جو آسمان میں پیش آیا اور اہل نصیبین میں سے اس نے پہلا لشکر بھیجا۔ اور وہ جنات کے بڑے اور اس کے سردار لوگوں میں سے تھے۔ اس نے ان کو تہامہ کی طرف بھیجا وہی بڑی تیز رفتاری سے چلتے رہے یہاں تک کہ نخلہ کی وادی میں پہنچ گئے۔ اور انہوں نے اللہ کے نبی ﷺ کو صبح کی نماز پڑھتے ہوئے پایا اور اللہ کے نبی ﷺ نہیں جانتے تھے کہ وہ جنات آپ کی طرف کان لگائے ہوئے ہیں اس حال میں کہ آپ قرآن پڑھ رہے تھے۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو وہ اپنی قوم کی طرف لوٹ گئے ان کو ڈراتے ہوئے اللہ کے عذاب سے راوی کا بیان ہے کہ وہ ایمان کی دولت سے مالا مال ہو کر واپس آئے۔
33۔ واقعدی و ابونعیم نے دلائل میں ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ جس دن رسول اللہ ﷺ نے نبوت کا دعوی کیا تو شیاطین کو آسمان سے روک دیا گیا اور شہابوں یعنی شعلوں کے ذریعہ ان کو بھگادیا گیا۔
34۔ واقدی وابو نعیم نے ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ کوئی ستارہ نہیں پھینکا گیا جب سے عیسیٰ (علیہ السلام) اٹھائے گئے یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ نبی بن کر تشریف لائے شیاطین کو ان شہابوں کے سبب بھگادیا گیا۔
35۔ بیہقی نے دلائل میں زہری (رح) سے روایت کیا کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے شیاطین کو ان ستاروں کے ذریعہ سننے سے روک دیا کاہنوں کا سلسلہ کٹ گیا۔ پس اب کوئی کہانت نہیں۔