تفسیر درِ منثور

Dure-Mansoor · 72. Al-Jinn · Ayah 9

  1. وَّ اَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَاعِدَ لِلسَّمْعِ١ؕ فَمَنْ یَّسْتَمِعِ الْاٰنَ یَجِدْ لَهٗ شِهَابًا رَّصَدًاۙ﴿9﴾

    1. وَّاَنَّااور یہ کہ ہم
    2. كُنَّا نَقْعُدُہم بیٹھا کرتے تھے
    3. مِنْهَااس کے
    4. مَقَاعِدَٹھکانے
    5. لِلسَّمْعِ ۭسننے کے لئے
    6. فَمَنْپس جو
    7. يَّسْتَمِعِسنتا ہے
    8. الْاٰنَاب
    9. يَجِدْ لَهٗوہ وہاں پاتا ہے
    10. شِهَابًاشعلہ
    11. رَّصَدًاگھات لگایا ہوا
Translation · Dure-Mansoor
اور بیشک ہم آسمان کے مواقع میں باتیں سننے کے لیے بیٹھا کرتے تھے سو جو شخص اب سننا چاہے وہ اپنے لیے ایک شعلہ تیار پاتا ہے
Tafseer · Dure-Mansoor
36۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وانا کنا نقعد منہا مقاعد للسمع اور ہم اس کے ٹھکانوں میں سننے کے لیے بیٹھا کرتے تھے۔ سے مراد ہے کہ آسمان پر پہرہ لگادیا گیا جب نبی ﷺ مبعوث ہوئے تاکہ کوئی چوری چھپے نہ سنے۔ جنات نے اس کا انکار کیا اب ان میں سے جس نے سننے کی کوشش کی اسے دور بھگا دیا گیا۔ 37۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ کی بعثت سے پہلے جنات آسمان سے باتیں سن لیتے تھے۔ جب آپ کی تشریف آوری ہوئی تو پہرہ لگادیا گیا۔ جس سے وہ آسمان کی باتیں نہ سن سکے وہی اپنی قوم کے پاس آئے اور ان کو کہنے لگے انہوں نے کچھ نہیں سنا۔ اور کہنے لگے آیت وانا لمسنا السماء فوجدناہا ملئت حرسا شدید ہم نے آسمان کو ٹٹوالا تو ہم نے اسے سخت پہرہ داروں سے بھرا ہوا پایا اور وہ پہرے دار فرشتے ہیں وشہبا۔ اور شعلوں سے بھرا ہوا پایا۔ اور وہ ستارے ہیں آیت واناکنا نقعد منہا مقاعدہ للسمع فمن یستمع الان یجد لہ شہابا رصدا اور ہم ان کے ٹھکانوں میں سننے کے لیے بیٹھا کرتے تھے پس جو کوئی اب کان دھرتا ہے تو وہ اپنے لیے ایک انگاہ تاک لگائے ہوئے پاتا ہے یعنی شہاب ایک ستارہ ہے جو اوپر والے جن کے لیے روکا گیا ہے اور اس کے ساتھ اسے بھگا دیا جائے گا۔ پھر فرمایا جب ان پر ستارے پھینکے گئے تو انہوں نے اپنی قوم سے آیت وانا لا ندری اشر ارید بمن فی الارض ام اراد بہم ربہم رشدا ہم نہیں جانتے کہ زمین والوں کے ساتھ نقصان کا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کی نسبت ان کے رب نے راہ راست پر لانے کا ارادہ کیا ہے۔ 18۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت یجد لہ شہابا رصدا کہ وہ اپنے لیے ایک انگارہ پاتا ہے۔ رصدا تاک لگائے ہوئے۔ یعنی فرشتوں میں سے۔ اور آیت انا لاندری اشر ارید بمن فی الارض۔ سے مراد ہے کہ انہوں نے کہا ہم نہیں جانتے کہ اس نبی ﷺ کو نہیں بھیجا گیا مگر اس لیے کہ وہ لوگ اس پر ایمان لائیں۔ اور اس کی تابعداری کریں تو وہ ہدایت پاجائیں اور اگر وہ لوگ اس کا انکار کریں گے اور اس کو جھٹلائیں گے تو ہلاک ہوں گے جیسے ان سے پہلے بھی بعض امتیں ہلاک ہوئی۔ واللہ اعلم۔