تفسیر درِ منثور

Dure-Mansoor · 73. Al-Muzzammil · Ayah 6

  1. اِنَّ نَاشِئَةَ الَّیْلِ هِیَ اَشَدُّ وَطْاً وَّ اَقْوَمُ قِیْلًاؕ﴿6﴾

    1. اِنَّبیشک
    2. نَاشِئَةَاٹھنا
    3. الَّيْلِرات
    4. هِيَیہ
    5. اَشَدُّسخت (نفس کو)
    6. وَطْاًروندنے والا
    7. وَّاَقْوَمُاور زیادہ درست
    8. قِيْلًاالفاظ کے تلفظ میں
Translation · Dure-Mansoor
بلاشبہ رات کا اٹھنا خوب زیادہ مشقت والا ہے اور اس وقت بات خوب ٹھیک طرح ادا ہوتی ہے
Tafseer · Dure-Mansoor
41۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن جریر وابن نصر وابن المنذر والبیہقی نے اپنی سنن میں ابن عباس ؓ سے آیت ان ناشءۃ اللیل کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد ہے رات کا قیام کرنا حبشی زبان میں کیونکہ جب آدمی کھڑا ہوتا تو وہ کہتا نشأ۔ 42۔ فریابی وابن جریر وابن ابی حاتم اور بیہقی نے اپنی سنن میں ابن ابی ملیکہ (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابن عباس اور ابن الزبیر ؓ سے آیت ان ناشءۃ اللیل کے بارے میں پوچھا تو ان دونوں نے فرمایا کہ اس سے مراد ہے قیام اللیل۔ 43۔ بیہقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ناشءۃ اللیل سے مراد ہے رات کا اول حصہ۔ 44۔ ابن المنذر وابن الضریس نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ساری رات ہی ناشءۃ ہے۔ 45۔ ابن ابی شیبہ وابن ابی حاتم والحاکم وصححۃ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ آیت ان ناشءۃ اللیل سے مراد ہے قیام اللیل حبشی زبان میں۔ قرآن کریم حبشی زبان میں 46۔ عبد بن حمید نے ابو مالک (رح) سے روایت کیا کہ آیت ان ناشءۃ اللیل سے مراد ہے قیام اللیل حبشی زبان میں۔ 47۔ عبد بن حمید وابن نصر نے ابو میسرہ (رح) سے روایت کیا کہ حبشی زبان میں نشأ کہتے ہیں کھڑے ہونے کو۔ 48۔ عبد بن حمید وابن نصر نے ابن ابی ملیکہ (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت ناشءۃ اللیل کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا جس رات میں کھڑا ہوا تو میں نے انشأت کیا۔ یعنی میں نے قیام اللیل کیا۔ 49۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے آیت ان ناشءۃ اللیل کے بارے میں روایت کیا کہ عشاء کے بعد ہر چیز ناشۂ ہے۔ 50۔ عبدبن حمید وابن نصر اور بیہقی نے اپنی سنن میں حسن (رح) سے روایت کیا کہ عشاء کے بعد ہر نماز ناشءۃ اللیل ہے۔ 51۔ عبد بن حمید وابن نصر نے ابو مجلز (رح) سے آیت ان ناشءۃ اللیل کے بارے میں روایت کیا کہ عشاء کے بعد صبح تک ہر نماز ناشۂ ہے۔ 52۔ فریابی وعبد بن حمید وابن نصر نے مجاہد (رح) سے آیت ان ناشءۃ اللیل کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد وہ وقت ہے جس میں تو تہجد پڑے سو تو رت کے وقت تہجد پڑھ۔ 53۔ ابن ابی شیبہ فی المصنف وابن نصر والبیہقی نے اپنی سنن میں انس بن مالک ؓ سے آیت ان ناشءۃ اللیل کے بارے میں روایت کیا کہ س سے مغرب اور عشاء کے درمیان کا وقت مراد ہے۔ 54۔ ابن ابی شیبہ نے سعید بن جبیر (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔ 55۔ ابن نصر والبیہقی نے علی بن حسین ؓ سے روایت کیا کہ آیت ان ناشءۃ اللیل سے مراد ہے مغرب اور عشاء کے درمیان قیام کرنا۔ مغرب و عشاء کے درمیان نفل پڑھنا 56۔ ابن المنذر نے حسین بن علی ؓ سے روایت کیا کہ آپ کو مغرب اور عشاء کے درمیان نماز پڑھتے ہوئے دیکھا گیا۔ اس بارے میں ان سے پوچھا گیا کہ اس وقت میں کیا ہے۔ تو آپ نے فرمایا یہ ناشۂ میں سے ہے۔ 57۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو یوں پڑھا آیت ان ناشءۃ اللیل یاء کے ہمزہ کے ساتھ آیت اشد وطأ میں واو کے نصب اور طاء کے جزم کے ساتھ یعنی موافقت کرنا۔ 58۔ ابو یعلی وابن جریر ومحمد بن نصر وابن الانباری نے المصاحف میں انس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے یہ آیت پڑھی آیت ان ناشءۃ اللیل ہی اشد وطأ واصوب قیلا۔ ایک آدمی نے ان سے کہا ہم تو اس کو یوں پڑھتے ہیں آیت واقوم قیلا تو انس ؓ نے فرمایا بلاشبہ اصوب واقوم واھیا واشبا سب کا ایک ہی معنی ہے۔