تفسیر درِ منثور

Dure-Mansoor · 73. Al-Muzzammil · Ayah 7

  1. اِنَّ لَكَ فِی النَّهَارِ سَبْحًا طَوِیْلًاؕ﴿7﴾

    1. اِنَّ لَكَبیشک آپ کیلئے
    2. فِي النَّهَارِدن میں
    3. سَبْحًاشغل
    4. طَوِيْلًاطویل
Translation · Dure-Mansoor
بلاشبہ دن میں آپ کو زیادہ کام میں مشغولیت رہتی ہے
Tafseer · Dure-Mansoor
59۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن نصر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ہی اشد وطأ یہ نفس کو خوب زیر کرتا ہے یعنی یہ قول تیرے لیے بہت زیادہ موافق ہے آیت واقوم قیلا یعنی فارغ کرنے والا ہے تیرے دل کو۔ 60۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت اشد وطا یعنی تو اپنے کانوں کو اپنی آنکھوں کو اور اپنے دل کو ایک دوسرے کے موافق کرلے آیت واقوم قیلا اور قراءت کو ثابت کرنے والا ہے۔ 61 عبدالرزاق وعبد بن حمید وبن نصر نے قتادہ (رح) سے آیت اشد وطأکے بارے میں روایت کیا کہ رات کا قیام خیر اور نیکی میں ثابت قدم رکھتا ہے آیت واقوم قیلا اور قراءت پر اجر مرتب کرنے والا ہے۔ 62۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت تو اقوم قیلا اور بات بھی صحیح نکلتی ہے سے مراد ہے کہ رات کا قیام اس سے زیادہ قریب ہے کہ آپ قرآن کی سمجھ حاصل کریں۔ آیت ان لک فی النہار سبحا طویلا بیشک دن میں آپ کے لیے بڑا کام ہے۔ یعنی فراغت ہے۔ آیت وتبتل الیہ تبتیلا اور سب سے الگ ہو کر اسی کی طرف آجاؤ یعنی اللہ کے لیے انتہائی اخلاص اختیار کیجیے۔ 63۔ عبد بن حمید وابن نصر وابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم نے الکنی میں ابن عباس ؓ سے آیت ان لک فی النہار سبحا طویلا کے بارے میں روایت کیا کہ السبح سے مراد ہے کسی حاجت اور نیند کے لیے فارغ ہونا۔ 64۔ عبد بن حمید وابن نصر مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ سبحا طویلا سے مراد ہے لمبی فراغت۔ 65۔ عبدبن حمید نے ابو مالک اور ربیع رحمہما اللہ دونوں سے اسی طرح روایت کیا۔