تفسیر ابنِ کثیر

Tafseer Ibn-e-Kaseer · 10. Yunus · Ayah 18

  1. وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَضُرُّهُمْ وَ لَا یَنْفَعُهُمْ وَ یَقُوْلُوْنَ هٰۤؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ اَتُنَبِّئُوْنَ اللّٰهَ بِمَا لَا یَعْلَمُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ﴿18﴾

    1. وَيَعْبُدُوْنَاور وہ پوجتے ہیں
    2. مِنْسے
    3. دُوْنِ اللّٰهِاللہ کے سوا
    4. مَاجو
    5. لَا يَضُرُّھُمْنہ ضرر پہنچا سکے انہیں
    6. وَلَا يَنْفَعُھُمْاور نہ نفع دے سکے انہیں
    7. وَيَقُوْلُوْنَاور وہ کہتے ہیں
    8. هٰٓؤُلَآءِیہ سب
    9. شُفَعَآؤُنَاہمارے سفارشی
    10. عِنْدَاللّٰهِاللہ کے پاس
    11. قُلْآپ کہ دیں
    12. اَتُنَبِّئُوْنَکیا تم خبر دیتے ہو
    13. اللّٰهَاللہ
    14. بِمَااس کی جو
    15. لَا يَعْلَمُوہ نہیں جانتا
    16. فِي السَّمٰوٰتِآسمانوں میں
    17. وَاور
    18. لَانہ
    19. فِي الْاَرْضِزمین میں
    20. سُبْحٰنَهٗوہ پاک ہے
    21. وَتَعٰلٰىاور بالا تر
    22. عَمَّااس سے جو
    23. يُشْرِكُوْنَوہ شرک کرتے ہیں
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
اور یہ (لوگ) خدا کے سوا ایسی چیزوں کی پرستش کرتے ہیں جو نہ ان کا کچھ بگاڑ ہی سکتی ہیں اور نہ کچھ بھلا ہی کر سکتی ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ خدا کے پاس ہماری سفارش کرنے والے ہیں۔ کہہ دو کہ کیا تم خدا کو ایسی چیز بتاتے ہو جس کا وجود اسے نہ آسمانوں میں معلوم ہوتا ہے اور نہ زمین میں۔ وہ پاک ہے اور (اس کی شان) ان کے شرک کرنے سے بہت بلند ہے
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
شرک کے آغاز کی روداد مشرکوں کا خیال تھا کہ جن کو ہم پوجتے ہیں یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہوں گے اس غلط عقیدے کی قرآن کریم تردید فرماتا ہے کہ وہ کسی نفع نقصان کا اختیار نہیں رکھتے ان کی شفاعت تمہارے کچھ کام نہ آئے گی۔ تم تو اللہ کو بھی سکھانا چاہتے ہو گویا جو چیز زمین آسمان میں وہ نہیں جانتا تم اس کی خبر اسے دینا چاہتے ہو۔ یعنی یہ خیال غلط ہے۔ اللہ تعالیٰ شرک و کفر سے پاک ہے وہ برتر و بری ہے۔ سنو پہلے سب کے سب لوگ اسلام پر تھے۔ حضرت آدم ؑ سے لے کر حضرت نوح ؑ تک دس صدیاں وہ سب لوگ مسلمان تھے۔ پھر اختلاف رونما ہوا اور لوگوں نے تیری میری پرستش شروع کردی۔ اللہ تعالیٰ نے رسولوں کے سلسلوں کو جاری کیا تاکہ ثبوت و دلیل کے بعد جس کا جی چاہے زندہ رہے جس کا جی چاہے مرجائے۔ چونکہ اللہ کی طرف سے فیصلے کا دن مقرر ہے۔ حجت تمام کرنے سے پہلے عذاب نہیں ہوتا اس لیے موت موخر ہے۔ ورنہ ابھی ہی حساب چکا دیا جاتا۔ مومن کامیاب رہتے اور کافر ناکام۔