تفسیر ابنِ کثیر

Tafseer Ibn-e-Kaseer · 11. Hud · Ayah 82

  1. فَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِیَهَا سَافِلَهَا وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهَا حِجَارَةً مِّنْ سِجِّیْلٍ١ۙ۬ مَّنْضُوْدٍۙ﴿82﴾

    1. فَلَمَّاپس جب
    2. جَآءَآیا
    3. اَمْرُنَاہمارا حکم
    4. جَعَلْنَاہم نے کردیا
    5. عَالِيَهَااس کا اوپر (بلند)
    6. سَافِلَهَااس کا نیچا (پست)
    7. وَاَمْطَرْنَااور ہم نے برسائے
    8. عَلَيْهَااس پر
    9. حِجَارَةًپتھر
    10. مِّنْ سِجِّيْلٍکنکر (سنگریزہ)
    11. مَّنْضُوْدٍتہہ بہ تہہ
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
تو جب ہمارا حکم آیا ہم نے اس (بستی) کو (اُلٹ کر) نیچے اوپر کردیا اور ان پر پتھر کی تہہ بہ تہہ (یعنی پےدرپے) کنکریاں برسائیں
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
آج کے ایٹم بم اس وقت کے پتھروں کی بارش سورج کے نکلنے کے وقت اللہ کا عذاب ان پر آگیا۔ ان کی بستی سدوم نامی تہ وبالا ہوگئی۔ عذاب نے اوپر تلے سے ڈھانک لیا۔ آسمان سے پکی مٹی کے پتھر ان پر برسنے لگے۔ جو سخت، وزنی اور بہت بڑے بڑے تھے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے سجین سجیل دونوں ایک ہی ہیں۔ منضود سے مراد پے بہ پے تہ بہ تہ ایک کے بعد ایک کے ہیں۔ ان پتروں پر قدرتی طور پر ان لوگوں کے نام لکھے ہوئے تھے۔ جس کے نام کا پتھر تھا اسی پر گرتا تھا۔ وہ مثل طوق کے تھے جو سرخی میں ڈوبے ہوئے تھے۔ یہ ان شہریوں پر بھی برسے اور یہاں کے جو لوگ اور گاؤں گوٹھ میں تھے ان پر بھی وہیں گرے۔ ان میں سے جو جہاں تھا وہیں پتھر سے ہلاک کیا گیا۔ کوئی کھڑا ہوا، کسی جگہ کسی سے باتیں کر رہا ہے وہیں پتھر آسمان سے آیا اور اسے ہلاک کر گیا۔ غرض ان میں سے ایک بھی نہ بچا۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں حضرت جبرائیل ؑ نے ان سب کو جمع کر کے ان کے مکانات اور مویشیوں سمیت اونچا اٹھا لیا یہاں تک کہ ان کے کتوں کے بھونکنے کی آوازیں آسمان کے فرشتوں نے سن لیں۔ آپ اپنے داہنے پر کے کنارے پر ان کی بستی کو اٹھائے ہوئے تھے۔ پھر انہیں زمین پر الٹ دیا۔ ایک کو دوسرے سے ٹکرا دیا اور سب ایک ساتھ غارت ہوگئے اکا دکا جو رہ گئے تھے ان کے بھیجے آسمانی پتھروں نے پھوڑ دئیے اور محض بےنام و نشان کردیئے گئے۔ مذکور ہے کہ ان کی چار بستیاں تھیں۔ ہر بستی میں ایک لاکھ آدمیوں کی آبادی تھی۔ ایک روایت میں ہے تین بستیاں تھیں۔ بڑی بستی کا نام سدوم تھا۔ یہاں کبھی کبھی خلیل اللہ حضرت ابراہیم ؑ بھی آکر وعظ نصیحت فرما جایا کرتے تھے۔ پھر فرماتا ہے یہ چیزیں کچھ ان سے دور نہ تھیں۔ سنن کی حدیث میں ہے کسی اگر تم لواطت کرتا ہوا پاؤ تو اوپر والے نیچے والے دونوں کو قتل کردو۔
Tafseer Ibn-e-Kaseer - 11 : 82