تفسیر ابنِ کثیر
Tafseer Ibn-e-Kaseer · 11. Hud · Ayah 93
وَ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ١ؕ سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ۙ مَنْ یَّاْتِیْهِ عَذَابٌ یُّخْزِیْهِ وَ مَنْ هُوَ كَاذِبٌ١ؕ وَ ارْتَقِبُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ رَقِیْبٌ﴿93﴾
- وَيٰقَوْمِاے میری قوم
- اعْمَلُوْاتم کام کرتے ہو
- عَلٰيپر
- مَكَانَتِكُمْاپنی جگہ
- اِنِّىْبیشک میں
- عَامِلٌکام کرتا ہوں
- سَوْفَجلد
- تَعْلَمُوْنَتم جان لوگے
- مَنْکون۔ کس ؟
- يَّاْتِيْهِاس پر آتا ہے
- عَذَابٌعذاب
- يُّخْزِيْهِاس کو رسوا کردیگا
- وَمَنْاور کون
- هُوَوہ
- كَاذِبٌجھوٹا
- وَارْتَقِبُوْٓااور تم انتظار کرو
- اِنِّىْمیں بیشک
- مَعَكُمْتمہارے ساتھ
- رَقِيْبٌانتظار
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
اور برادران ملت! تم اپنی جگہ کام کیے جاؤ میں (اپنی جگہ) کام کیے جاتا ہوں۔ تم کو عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ رسوا کرنے والا عذاب کس پر آتا ہے اور جھوٹا کون ہے اور تم بھی انتظار کرو، میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
مدین والوں پر عذاب الٰہی
جب اللہ کے نبی ؑ اپنی قوم کے ایمان لانے سے مایوس ہوگئے تو تھک کر فرمایا اچھا تم اپنے طریقے پر چلے جاؤ میں اپنے طریقے پر قائم ہوں۔ تمہیں عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ رسوا کرنے والے عذاب کن پر نازل ہوتے ہیں اور اللہ کے نزدیک جھوٹا کون ہے ؟ تم منظر رہو میں بھی انتظار میں ہوں۔ آخرش ان پر بھی عذاب الٰہی اترا اس وقت نبی اللہ اور مومن بچا دیئے گئے ان پر رحمت رب ہوئی اور ظالموں کو تہس نہس کردیا گیا۔ وہ جل بھجے۔ بےحس و حرکت رہ گئے۔ ایسے کہ گویا کبھی اپنے گھروں میں آباد ہی نہ تھے۔ اور جیسے کہ ان سے پہلے کے ثمودی تھے اللہ کی لعنت کا باعث بنے ویسے ہی یہ بھی ہوگئے۔ ثمودی ان کے پڑوسی تھے اور گناہ اور بدامنی میں انہیں جیسے تھے اور یہ دونوں قومیں عرب ہی سے تعلق رکھتی تھیں۔