تفسیر ابنِ کثیر
Tafseer Ibn-e-Kaseer · 12. Yusuf · Ayah 63
فَلَمَّا رَجَعُوْۤا اِلٰۤى اَبِیْهِمْ قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الْكَیْلُ فَاَرْسِلْ مَعَنَاۤ اَخَانَا نَكْتَلْ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ﴿63﴾
- فَلَمَّاپس جب
- رَجَعُوْٓاوہ لوٹے
- اِلٰٓىطرف
- اَبِيْهِمْاپنا باپ
- قَالُوْاوہ بولے
- يٰٓاَبَانَااے ہمارے ابا
- مُنِعَروک دیا گیا
- مِنَّاہم سے
- الْكَيْلُناپ
- فَاَرْسِلْپس بھیجدیں
- مَعَنَآہمارے ساتھ
- اَخَانَاہمارے بھائی کو
- نَكْتَلْناپ (غلہ) لائیں
- وَاِنَّااور بیشک ہم
- لَهٗاس کے
- لَحٰفِظُوْنَنگہبان ہیں
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
جب وہ اپنے باپ کے پاس واپس گئے تو کہنے لگے کہ ابّا (جب تک ہم بنیامین کو ساتھ نہ لے جائیں) ہمارے لیے غلّے کی بندش کر دی گئی ہے تو ہمارے ساتھ ہمارے بھائی کو بھیج دے تاکہ ہم پھر غلّہ لائیں اور ہم اس کے نگہبان ہیں
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
بیان ہو رہا ہے کہ باپ کے پاس پہنچ کر انہوں کہا کہ اب ہمیں تو غلہ مل نہیں سکتا تاوقتیکہ آپ ہمارے ساتھ ہمارے بھائی کو نہ بھجیں اگر انہیں ساتھ کردیں تو البتہ مل سکتا ہے آپ بےفکر رہئے ہم اس کی نگہبانی کرلیں گے نکتل کی دوسری قرأت یکتل بھی ہے۔ حضرت یعقوب ؑ نے فرمایا کہ بس وہی تم ان کے ساتھ کرو گے جو اس سے پہلے ان کے بھائی حضرت یوسف ؑ کے ساتھ کرچکے ہو کہ یہاں سے لے گئے اور یہاں پہنچ کر کوئی بات بنادی۔
حافظاکی دوسری قرأت حفظا بھی ہے آپ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی بہترین حافظ اور نگہبان ہے اور ہے بھی وہ ارحم الراحمین میرے بڑھاپے پر میری کمزوری پر رحم فرمائے گا اور جو غم و رنج مجھے اپنے بچے کا ہے وہ دور کر دے گا۔ مجھے اس کی پاک ذات سے امید ہے کہ وہ میرے یوسف کو مجھ سے پھر ملا دے گا اور میری پراگندگی کو دور کر دے گا۔ اس پر کوئی کام مشکل نہیں وہ اپنے بندوں سے اپنے رحم وکرم کو نہیں روکتا۔