تفسیر ابنِ کثیر

Tafseer Ibn-e-Kaseer · 12. Yusuf · Ayah 69

  1. وَ لَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى یُوْسُفَ اٰوٰۤى اِلَیْهِ اَخَاهُ قَالَ اِنِّیْۤ اَنَا اَخُوْكَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ﴿69﴾

    1. وَلَمَّااور جب
    2. دَخَلُوْاوہ داخل ہوئے
    3. عَلٰي يُوْسُفَیوسف کے پاس
    4. اٰوٰٓىاس نے جگہ دی
    5. اِلَيْهِاپنے پاس
    6. اَخَاهُاپنا بھائی
    7. قَالَاس نے کہا
    8. اِنِّىْٓبیشک میں
    9. اَنَا اَخُوْكَمیں تیرا بھائی
    10. فَلَا تَبْتَئِسْسو تو غمگین نہ ہو
    11. بِمَااس پر جو
    12. كَانُوْاوہ کرتے تھے
    13. يَعْمَلُوْنَوہ کرتے تھے
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
اور جب وہ لوگ یوسف کے پاس پہنچے تو یوسف نے اپنے حقیقی بھائی کو اپنے پاس جگہ دی اور کہا کہ میں تمہارا بھائی ہوں تو جو سلوک یہ (ہمارے ساتھ) کرتے رہے ہیں اس پر افسوس نہ کرنا
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
بنیامین جو حضرت یوسف ؑ کے سگے بھائی تھے انہیں لے کر آپ کے اور بھائی جب مصر پہنچے آپ نے أپ نے سرکاری مہمان خانے میں ٹھیرایا، بڑی عزت تکریم کی اور صلہ اور انعام و اکرام دیا، اپنے بھائی سے تنہائی میں فرمایا کہ میں تیرا بھائی یوسف ہوں، اللہ نے مجھ پر یہ انعام و اکرام فرمایا ہے، اب تمہیں چاہئے کہ بھائیوں نے جو سلوک میرے ساتھ کیا ہے، اس کا رنج نہ کرو اور اس حقیقت کو بھی ان پر نہ کھولو میں کوشش میں ہوں کہ کسی نہ کسی طرح تمہیں اپنے پاس روک لوں۔