تفسیر ابنِ کثیر

Tafseer Ibn-e-Kaseer · 13. Ar-Ra'd · Ayah 36

  1. وَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَفْرَحُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مِنَ الْاَحْزَابِ مَنْ یُّنْكِرُ بَعْضَهٗ١ؕ قُلْ اِنَّمَاۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ وَ لَاۤ اُشْرِكَ بِهٖ١ؕ اِلَیْهِ اَدْعُوْا وَ اِلَیْهِ مَاٰبِ﴿36﴾

    1. وَالَّذِيْنَاور وہ لوگ جو
    2. اٰتَيْنٰهُمُہم نے انہیں دی
    3. الْكِتٰبَکتاب
    4. يَفْرَحُوْنَوہ خوش ہوتے ہیں
    5. بِمَآاس سے جو
    6. اُنْزِلَنازل کیا گیا
    7. اِلَيْكَتمہاری طرف
    8. وَاور
    9. مِنَبعض
    10. الْاَحْزَابِگروہ
    11. مَنْجو
    12. يُّنْكِرُانکار کرتے ہیں
    13. بَعْضَهٗاس کی بعض
    14. قُلْآپ کہ دیں
    15. اِنَّمَآاس کے سوا نہیں
    16. اُمِرْتُمجھے حکم دیا گیا
    17. اَنْکہ
    18. اَعْبُدَمیں عبادت کروں
    19. اللّٰهَاللہ
    20. وَاور
    21. لَآ اُشْرِكَنہ شریک ٹھہراؤں
    22. بِهٖاس کا
    23. اِلَيْهِاس کی طرف
    24. اَدْعُوْامیں بلاتا ہوں
    25. وَاِلَيْهِاور اسی کی طرف
    26. مَاٰبِمیرا ٹھکانا
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
اور جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس (کتاب) سے جو تم پر نازل ہوئی ہے خوش ہوتے ہیں اور بعض فرقے اس کی بعض باتیں نہیں بھی مانتے۔ کہہ دو کہ مجھ کو یہی حکم ہوا ہے کہ خدا ہی کی عبادت کروں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤں۔ میں اسی کی طرف بلاتا ہوں اور اسی کی طرف مجھے لوٹنا ہے
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
شاداں وفرحاں لوگ جو لوگ اس سے پہلے کتاب دئیے گئے ہیں اور وہ اس کے عامل ہیں وہ تو تجھ پر اس قرآن کے اترنے سے شاداں وفرحاں ہو رہے ہیں کیونکہ خود ان کی کتابوں میں اس کی بشارت اور اس کی صداقت موجود ہے۔ جیسے آیت (اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰھُمُ الْكِتٰبَ يَتْلُوْنَهٗ حَقَّ تِلَاوَتِهٖ) 2۔ البقرۃ :121) میں ہے کہ اگلی کتابوں کو اچھی طور سے پڑھنے اس آخری کتاب پر بھی ایمان لاتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ کی رسالت کی خبر ہے اور وہ اس وعدے کو پوار دیکھ کر خوشی سے مان لیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے کہ اس کے وعدے غلط نکلیں اس کے فرمان صحیح ثابت نہ ہوں پس وہ شادماں ہوتے ہوئے اللہ کے سامنے سجدے میں گرپڑتے ہیں۔ ہاں ان جماعتوں میں ایسے بھی ہیں جو اس کی بعض باتوں کو نہیں مانتے، غرض بعض اہل کتاب مسلمان ہیں بعض نہیں، تو اے نبی اعلان کر دے کہ مجھے صرف اللہ واحد کی عبادت کا حکم ملا ہوا ہے کہ دوسرے کی شرکت کے بغیر صرف اسی کی عبادت اس کی ہی توحید کے ساتھ کروں یہی حکم مجھ سے پہلے کے تمام نبیوں اور رسولوں کو ملا تھا، اسی راہ کی طرف اسی الہٰی عبادت کی طرف میں تمام دنیا کو دعوت دیتا ہوں۔ اسی اللہ کی طرف سب کو بلاتا ہوں اور اسی اللہ کی طرف میرا لوٹنا ہے۔ جس طرح ہم نے تم سے پہلے نبی بھیجے ان پر اپنی کتابیں نازل فرمائیں اسی طرح یہ قرآن جو محکم اور مضبوط ہے عربی زبان میں جو تیری اور تیری قوم کی زبان ہے اس قرآن کو ہم نے تجھ پر نازل فرمایا۔ یہ بھی تجھ پر خاص احسان ہے کہ اس واضح اظہار مفصل اور محکم کتاب کے ساتھ تجھے ہم نے نوازا کہ نہ اس کے آگے سے باطل آسکے نہ اس کے پیچھے سے آ کر اس میں مل سکے یہ حکیم وحمید اللہ کی طرف سے اتری ہے۔ اے نبی ﷺ تیرے پاس الہامی علم آسمانی وحی آچکی ہے اب بھی اگر تو نے ان کی خواہش کی ماتحتی کی تو یاد رکھ کہ اللہ کے عذابوں سے تجھے کوئی بھی نہ بچا سکے گا۔ نہ کوئی تیری حمایت پر کھڑا ہوگا۔ سنت نبویہ اور طریقہ محمدیہ کے علم کے بعد جو گمراہی والوں کے راستوں کو اختیار کریں ان علماء کے لئے اس آیت میں زبردست وعید ہے۔