تفسیر ابنِ کثیر

Tafseer Ibn-e-Kaseer · 15. Al-Hijr · Ayah 51

  1. وَ نَبِّئْهُمْ عَنْ ضَیْفِ اِبْرٰهِیْمَۘ﴿51﴾

    1. وَنَبِّئْهُمْاور انہیں خبر دو (سنا دو )
    2. عَنْسے۔ کا
    3. ضَيْفِمہمان
    4. اِبْرٰهِيْمَابراہیم
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
اور ان کو ابراہیم کے مہمانوں کا احوال سنادو
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
فرشتے بصورت انسان لفظ ضعیف واحد اور جمع دونوں پر بولا جاتا ہے۔ جیسے زور اور سفر۔ یہ فرشتے تھے جو بصورت انسان سلام کر کے حضرت خلیل اللہ ؑ کے پاس آئے تھے۔ آپ نے بچھڑا کاٹ کر اس کا گوشت بھون کر ان مہمانوں کے سامنے لا رکھا۔ جب دیکھا کہ وہ ہاتھ نہیں ڈالتے تو ڈر گئے اور کہا کہ ہمیں تو آپ سے ڈر لگنے لگا۔ فرشتوں نے اطمینان دلایا کہ ڈرو نہیں، پھر حضرت اسحاق ؑ کے پیدا ہونے کی بشارت سنائی۔ جیسے کہ سورة ھود میں ہے۔ تو آپ نے اپنے اور اپنی بیوی صاحبہ کے بڑھاپے کو سامنے رکھ کر اپنا تعجب دور کرنے اور وعدے کو ثابت کرنے کے لئے پوچھا کہ کیا اس حالت میں ہمارے ہاں بچہ ہوگا ؟ فرشتوں نے دوبارہ زور دار الفاظ میں وعدے کو دہرایا اور ناامیدی سے دور رہنے کی تعلیم کی۔ تو آپ نے اپنے عقیدے کا اظہار کردیا کہ میں مایوس نہیں ہوں۔ ایمان رکھتا ہوں کہ میرا رب اس سے بھی بڑی باتوں پر قدرت کاملہ رکھتا ہے۔