تفسیر ابنِ کثیر

Tafseer Ibn-e-Kaseer · 18. Al-Kahf · Ayah 107

  1. اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنّٰتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًاۙ﴿107﴾

    1. اِنَّبیشک
    2. الَّذِيْنَ اٰمَنُوْاجو لوگ ایمان لائے
    3. وَاور
    4. عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِانہوں نے نیک عمل کیے
    5. كَانَتْامین
    6. لَهُمْان کے لیے
    7. جَنّٰتُ الْفِرْدَوْسِفردوس کے باغات
    8. نُزُلًاضیافت
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کئے ان کے لئے بہشت کے باغ مہمانی ہوں گے
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
جنت الفردوس کا تعارف۔ اللہ پر ایمان رکھنے والے، اس کے رسولوں کو سچا ماننے والے ان کی باتوں پر عمل کرنے ولاے، بہترین جنتوں میں ہوں گے۔ بخاری ومسلم میں ہے کہ جب تم اللہ سے جنت مانگو تو جنت فردوس کا سوال کرو یہ سب سے اعلی سب سے عمدہ جنت ہے اسی سے اور جنتوں کی نہریں بہتی ہیں۔ یہی ان کا مہمان خانہ ہوگی۔ یہ یہاں ہمیشہ کے لئے رہیں گے۔ نہ نکالے جائیں نہ نکلنے کا خیال آئے نہ اس سے بہتر کوئی اور جگہ وہ وہاں کے رہنے سے گھبرائیں کیونکہ ہر طرح کے اعلی عیش مہیا ہیں۔ ایک پر ایک رحمت مل رہی ہے روز بروز رغبت و محبت انس والفت بڑھتی جا رہی ہے اس لئے نہ طبیعت اکتاتی ہے نہ دل بھرتا ہے بلکہ روز شوق بڑھتا ہے اور نئی نعمت ملتی ہے۔