تفسیر ابنِ کثیر
Tafseer Ibn-e-Kaseer · 2. Al-Baqara · Ayah 148
وَ لِكُلٍّ وِّجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّیْهَا فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِ١ؐؕ اَیْنَ مَا تَكُوْنُوْا یَاْتِ بِكُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ﴿148﴾
- وَلِكُلٍّاور ہر ایک کے لیے
- وِّجْهَةٌایک سمت
- ھُوَوہ
- مُوَلِّيْهَااس طرف رخ کرتا ہے
- فَاسْتَبِقُواپس تم سبقت لے جاؤ
- الْخَيْرٰتِنیکیاں
- اَيْنَ مَاجہاں کہیں
- تَكُوْنُوْاتم ہوگے
- يَاْتِ بِكُمُلے آئے گا تمہیں
- اللّٰهُاللہ
- جَمِيْعًااکٹھا
- اِنَّ اللّٰهَبیشک اللہ
- عَلٰيپر
- كُلِّہر
- شَيْءٍچیز
- قَدِيْرقدرت رکھنے والا
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
اور ہر ایک (فرقے) کے لیے ایک سمت (مقرر) ہے۔ جدھر وہ (عبادت کے وقت) منہ کیا کرتے ہیں۔ تو تم نیکیوں میں سبقت حاصل کرو۔ تم جہاں رہو گے خدا تم سب کو جمع کرلے گا۔ بے شک خدا ہر چیز پر قادر ہے
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
سچا قبلہ
حضرت ابن عباس فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ہر مذہب والوں کا ایک قبلہ ہے لیکن سچا قبلہ وہ ہے جس پر مسلمان ہیں ابو العالیہ کا قول ہے کہ یہود کا بھی قبلہ ہے نصرانیوں کا بھی قبلہ ہے اور تمہارا بھی قبلہ ہے لیکن ہدایت والا قبلہ وہی ہے جس پر اے مسلمانو تم ہو۔ مجاہد سے یہ بھی مروی ہے کہ ہر ایک وہ قوم جو کعبہ کو قبلہ مانتی ہے وہ بھلائیوں میں سبقت کرے آیت (مولیھا) کی دوسری قرأت (مولاھا) ہے جیسے اور جگہ ہے آیت (لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَّمِنْهَاجًا) 5۔ المائدہ :48) یعنی ہر شخص کو اپنے اپنے قبلہ کی پڑی ہوئی ہے ہر شخص اپنی اپنی راہ لگا ہوا ہے پھر فرمایا کہ گو تمہارے جسم اور بدن مختلف ہوجائیں گو تم ادھر ادھر بکھر جاؤ لیکن اللہ تمہیں اپنی قدرت کاملہ سے اسی زمین سے جمع کرلے گا۔