تفسیر ابنِ کثیر

Tafseer Ibn-e-Kaseer · 2. Al-Baqara · Ayah 266

  1. اَیَوَدُّ اَحَدُكُمْ اَنْ تَكُوْنَ لَهٗ جَنَّةٌ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ اَعْنَابٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۙ لَهٗ فِیْهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ١ۙ وَ اَصَابَهُ الْكِبَرُ وَ لَهٗ ذُرِّیَّةٌ ضُعَفَآءُ١۪ۖ فَاَصَابَهَاۤ اِعْصَارٌ فِیْهِ نَارٌ فَاحْتَرَقَتْ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُوْنَ۠ع﴿266﴾

    1. اَيَوَدُّکیا پسند کرتا ہے
    2. اَحَدُكُمْتم میں سے کوئی
    3. اَنْکہ
    4. تَكُوْنَہو
    5. لَهٗاس کا
    6. جَنَّةٌایک باغ
    7. مِّنْسے (کا)
    8. نَّخِيْلٍکھجور
    9. وَّاَعْنَابٍاور انگور
    10. تَجْرِيْبہتی ہو
    11. مِنْسے
    12. تَحْتِهَااس کے نیچے
    13. الْاَنْهٰرُنہریں
    14. لَهٗاس کے لیے
    15. فِيْهَااس میں
    16. مِنْسے
    17. كُلِّ الثَّمَرٰتِہر قسم کے پھل
    18. وَاَصَابَهُاور اس پر آگیا
    19. الْكِبَرُبڑھاپا
    20. وَلَهٗاور اس کے
    21. ذُرِّيَّةٌبچے
    22. ضُعَفَآءُبہت کمزور
    23. فَاَصَابَهَآتب اس پر پڑا
    24. اِعْصَارٌایک بگولا
    25. فِيْهِاس میں
    26. نَارٌآگ
    27. فَاحْتَرَقَتْتو وہ جل گیا
    28. كَذٰلِكَاسی طرح
    29. يُبَيِّنُواضح کرتا ہے
    30. اللّٰهُاللہ
    31. لَكُمُتمہارے لیے
    32. الْاٰيٰتِنشانیاں
    33. لَعَلَّكُمْتاکہ تم
    34. تَتَفَكَّرُوْنَغور وفکر کرو
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
بھلا تم میں کوئی یہ چاہتا ہے کہ اس کا کھجوروں اور انگوروں کا باغ ہو جس میں نہریں بہہ رہی ہوں اور اس میں اس کے لئے ہر قسم کے میوے موجود ہوں اور اسے بڑھاپا آپکڑے اور اس کے ننھے ننھے بچے بھی ہوں۔ تو (ناگہاں) اس باغ پر آگ کا بھرا ہوا بگولا چلے اور وہ جل کر (راکھ کا ڈھیر ہو) جائے۔ اس طرح خدا تم سے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم سوچو (اور سمجھو)
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
کفر اور بڑھاپا صحیح بخاری شریف میں ہے کہ امیرالمومنین حضرت عمر بن خطاب نے ایک دن صحابہ سے پوچھا جانتے ہو کہ یہ آیت کس کے بارے میں نازل ہوئی ؟ انہوں نے کہا اللہ زیادہ جاننے والا، آپ نے ناراض ہو کر فرمایا تم جانتے ہو یا نہیں ؟ اس کا صاف جواب دو ، حضرت ابن عباس نے فرمایا امیرالمومنین میرے دل میں ایک بات ہے آپ نے فرمایا بھتیجے کہو اور اپنے نفس کو اتنا حقیر نہ کرو، فرمایا ایک عمل کی مثال دی گئی ہے، پوچھا کون سا عمل ؟ کہا ایک مالدار شخص جو اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کے کام کرتا ہے پھر شیطان اسے بہکاتا ہے اور وہ گناہوں میں مشغول ہوجاتا ہے اور اپنے نیک اعمال کو کھو دیتا ہے، پس یہ روایت اس آیت کی پوری تفسیر ہے اس میں بیان ہو رہا ہے کہ ایک شخص نے ابتداء اچھے عمل کئے پھر اس کے بعد اس کی حالت بدل گئی اور برائیوں میں پھنس گیا اور پہلے کی نیکیوں کا ذخیرہ برباد کردیا، اور آخری وقت جبکہ نیکیوں کی بہت زیادہ ضرورت تھی یہ خیال ہاتھ رہ گیا، جس طرح ایک شخص ہے جس نے باغ لگایا پھل اتارتا ہو، لیکن جب بڑھاپے کے زمانہ کو پہنچا چھوٹے بچے بھی ہیں آپ کسی کام کاج کے قابل بھی نہیں رہا، اب مدار زندگی صرف وہ ایک باغ ہے اتفاقاً آندھی چلی پھر برائیوں پر اتر آیا اور خاتمہ اچھا نہ ہوا تو جب ان نیکیوں کے بدلے کا وقت آیا تو خالی ہاتھ رہ گیا، کافر شخص بھی جب اللہ کے ہاں جاتا ہے تو وہاں تو کچھ کرنے کی طاقت نہیں جس طرح اس بڈھے کو، اور جو کیا ہے وہ کفر کی آگ والی آندھی نے برباد کردیا، اب پیچھے سے بھی کوئی اسے فائدہ نہیں پہنچا سکتا جس طرح اس بڈھے کی کم سن اولاد اسے کوئی کام نہیں دے سکتی، مستدرک حاکم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی ایک دعا یہ بھی تھی (اللھم اجعل اوسع رزقک علی عند کبر سنی و انقضاء عمری) اے اللہ اپنی روزی کو سب سے زیادہ مجھے اس وقت عنایت فرما جب میری عمر بڑی ہوجائے اور ختم ہونے کو آئے۔ اللہ تعالیٰ نے تمہارے سامنے یہ مثالیں بیان فرما دیں، تم بھی غور و فکر تدبر و تفکر کرو، سوچو سمجھو اور عبرت و نصیحت حاصل کرو جیسے فرمایا (آیت وتلک الامثال نضربھا للناس وما یعقلھا الا العالمون) ان مثالوں کو ہم نے لوگوں کیلئے بیان فرما دیا۔ انہیں علماء ہی خوب سمجھ سکتے ہیں۔