تفسیر ابنِ کثیر

Tafseer Ibn-e-Kaseer · 20. Taa-Haa · Ayah 127

  1. وَ كَذٰلِكَ نَجْزِیْ مَنْ اَسْرَفَ وَ لَمْ یُؤْمِنْۢ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ١ؕ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَشَدُّ وَ اَبْقٰى﴿127﴾

    1. وَكَذٰلِكَاور اسی طرح
    2. نَجْزِيْہم بدلہ دیتے ہیں
    3. مَنْجو
    4. اَسْرَفَحد سے نکل جائے
    5. وَلَمْ يُؤْمِنْاور نہ ایمان لائے
    6. بِاٰيٰتِآیتوں پر
    7. رَبِّهٖاپنا رب
    8. وَلَعَذَابُاور البتہ عذاب
    9. الْاٰخِرَةِآخرت
    10. اَشَدُّشدید ترین
    11. وَاَبْقٰياور زیادہ دیر تک رہنے والا ہے
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
اور جو شخص حد سے نکل جائے اور اپنے پروردگار کی آیتوں پر ایمان نہ لائے ہم اس کو ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں۔ اور آخرت کا عذاب بہت سخت اور بہت دیر رہنے والا ہے
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
دنیا کی سزائیں۔ جو حدود الٰہی کی پرواہ نہ کریں، اللہ کی آیتوں کو جھٹلائیں، انہیں ہم اسی طرح دنیا آخرت کے عذاب میں مبتلا کرتے ہیں خصوصا آخرت کا عذاب تو بہت ہی بھاری ہے اور وہاں کوئی نہ ہوگا جو بچا سکے۔ دنیا کے عذاب نہ تو سختی میں اس کے مقابلے کے ہیں نہ مدت میں دائمی اور نہایت المناک ہیں۔ ملاعنہ کرنے والوں کو سمجھاتے ہوئے رسول مقبول ﷺ نے یہی فرمایا تھا کہ دنیا کی سزا آخرت کے عذابوں کے مقابلے میں بہت ہی ہلکی اور ناچیز ہے۔
Tafseer Ibn-e-Kaseer - 20 : 127