تفسیر ابنِ کثیر

Tafseer Ibn-e-Kaseer · 20. Taa-Haa · Ayah 90

  1. وَ لَقَدْ قَالَ لَهُمْ هٰرُوْنُ مِنْ قَبْلُ یٰقَوْمِ اِنَّمَا فُتِنْتُمْ بِهٖ١ۚ وَ اِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحْمٰنُ فَاتَّبِعُوْنِیْ وَ اَطِیْعُوْۤا اَمْرِیْ﴿90﴾

    1. وَاور
    2. لَقَدْ قَالَتحقیق کہا
    3. لَهُمْان سے
    4. هٰرُوْنُہارون
    5. مِنْ قَبْلُاس سے پہلے
    6. يٰقَوْمِاے میری قوم
    7. اِنَّمَااس کے سوا نہیں
    8. فُتِنْتُمْتم آزمائے گئے
    9. بِهٖاس سے
    10. وَاِنَّاور بیشک
    11. رَبَّكُمُتمہارا رب
    12. الرَّحْمٰنُرحمن ہے
    13. فَاتَّبِعُوْنِيْسو میری پیروی کرو
    14. وَاَطِيْعُوْٓااور اطاعت کرو (مانو)
    15. اَمْرِيْمیری بات
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
اور ہارون نے ان سے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ لوگو اس سے صرف تمہاری آزمائش کی گئی ہے۔ اور تمہارا پروردگار تو خدا ہے تو میری پیروی کرو اور میرا کہا مانو
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
بنی اسرائیل اور ہارون ؑ۔ حضرت موسیٰ ؑ کے آنے سے پہلے حضرت ہارون ؑ نے انہیں ہرچند سمجھایا بجھایا کہ دیکھو فتنے میں نہ پڑو اللہ رحمان کے سوا اور کسی کے سامنے نہ جھکو۔ وہ ہر چیز کا خالق مالک ہے سب کا اندازہ مقرر کرنے والا وہی ہے وہی عرش مجید کا مالک ہے وہی جو چاہے کر گزرنے والا ہے۔ تم میری تابعداری اور حکم برداری کرتے رہو جو میں کہوں وہ بجا لاؤ جس سے روکوں رک جاؤ۔ لیکن ان سرکشوں نے جواب دیا کہ موسیٰ ؑ کی سن کر تو خیر ہم مان لیں گے تب تک تو ہم اس کی پرستش نہیں چھوڑیں گے۔ چناچہ لڑنے اور مرنے مارنے کے واسطے تیار ہوگئے۔