تفسیر ابنِ کثیر

Tafseer Ibn-e-Kaseer · 3. Aal-i-Imraan · Ayah 156

  1. یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ قَالُوْا لِاِخْوَانِهِمْ اِذَا ضَرَبُوْا فِی الْاَرْضِ اَوْ كَانُوْا غُزًّى لَّوْ كَانُوْا عِنْدَنَا مَا مَاتُوْا وَ مَا قُتِلُوْا١ۚ لِیَجْعَلَ اللّٰهُ ذٰلِكَ حَسْرَةً فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ﴿156﴾

    1. يٰٓاَيُّھَااے
    2. الَّذِيْنَ اٰمَنُوْاایمان والو
    3. لَا تَكُوْنُوْانہ ہوجاؤ
    4. كَاطرح
    5. لَّذِيْنَ كَفَرُوْاجو کافر ہوئے
    6. وَقَالُوْاوہ کہتے ہیں
    7. لِاِخْوَانِھِمْاپنے بھائیوں کو
    8. اِذَاجب
    9. ضَرَبُوْا فِي الْاَرْضِوہ سفر کریں زمین (راہ) میں
    10. اَوْیا
    11. كَانُوْا غُزًّىجہاد میں ہوں
    12. لَّوْ كَانُوْااگر وہ ہوتے
    13. عِنْدَنَاہمارے پاس
    14. مَانہ
    15. مَاتُوْاوہ مرتے
    16. وَمَا قُتِلُوْااور نہ مارے جاتے
    17. لِيَجْعَلَتاکہ بنادے
    18. اللّٰهُاللہ
    19. ذٰلِكَیہ۔ اس
    20. حَسْرَةًحسرت
    21. فِيْمیں
    22. قُلُوْبِھِمْان کے دل
    23. وَاللّٰهُاور اللہ
    24. يُحْيٖزندہ کرتا ہے
    25. وَيُمِيْتُاور مارتا ہے
    26. وَاللّٰهُاور اللہ
    27. بِمَاجو کچھ
    28. تَعْمَلُوْنَتم کرتے ہو
    29. بَصِيْرٌدیکھنے والا
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
مومنو! ان لوگوں جیسے نہ ہونا جو کفر کرتے ہیں اور ان کے (مسلمان) بھائی جب (خدا کی راہ میں) سفر کریں (اور مر جائیں) یا جہاد کو نکلیں (اور مارے جائیں) تو ان کی نسبت کہتے ہیں کہ اگر وہ ہمارے پاس رہتے تو نہ مرتے اور نہ مارے جاتے۔ ان باتوں سے مقصود یہ ہے کہ خدا ان لوگوں کے دلوں میں افسوس پیدا کر دے اور زندگی اور موت تو خدا ہی دیتا ہے اور خدا تمہارے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
باطل خیالات کی نشاندہی اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو کافروں جیسے فاسد اعتقاد رکھنے کی ممانعت فرما رہا ہے یہ کفار سمجھتے تھے کہ ان کے لوگ جو سفر میں یا لڑائی میں مرے اگر وہ سفر اور لڑائی نہ کرتے تو نہ مرتے پھر فرماتا ہے کہ یہ باطل خیال بھی ان کی حسرت افسوس کا بڑھانے والا ہے، دراصل موت وحیات اللہ کے ہاتھ ہے مرتا ہے اس کی چاہت سے اور زندگی ملتی ہے تو اس کے ارادے سے تمام امور کا جاری کرنا اس کے قبضہ میں ہے اس کی قضا و قدر ٹلتی نہیں اس کے علم سے اور اس کی نگاہ سے کوئی چیز باہر نہیں تمام مخلوق کے ہر امر کو وہ بخوبی جانتا ہے۔ دوسری آیت بتلا رہی ہے کہ اللہ کی راہ میں قتل ہونا یا مرنا اللہ کی مغفرت و رحمت کا ذریعہ ہے اور یہ قطعاً دنیا ومافیہا سے بہتر ہے کیونکہ یہ فانی ہے اور وہ باقی اور ابدی ہے پھر ارشاد ہوتا ہے کہ خواہ کسی طرح دنیا چھوڑو مر کر یا قتل ہو کر لوٹنا تو اللہ ہی کی طرف ہے پھر اپنے اعمال کا بدلہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے برا ہو تو بھلا ہو تو۔ !
Tafseer Ibn-e-Kaseer - 3 : 156