تفسیر ابنِ کثیر

Tafseer Ibn-e-Kaseer · 35. Faatir · Ayah 1

  1. اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ جَاعِلِ الْمَلٰٓئِكَةِ رُسُلًا اُولِیْۤ اَجْنِحَةٍ مَّثْنٰى وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ١ؕ یَزِیْدُ فِی الْخَلْقِ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ﴿1﴾

    1. اَلْحَمْدُتمام تعریفیں
    2. لِلّٰهِاللہ کے لیے
    3. فَاطِرِپیدا کرنے والا
    4. السَّمٰوٰتِآسمانوں
    5. وَالْاَرْضِاور زمین
    6. جَاعِلِبنانے والا
    7. الْمَلٰٓئِكَةِفرشتے
    8. رُسُلًاپیغامبر
    9. اُولِيْٓ اَجْنِحَةٍپروں والے
    10. مَّثْنٰىدو دو
    11. وَثُلٰثَاور تین تین
    12. وَرُبٰعَ ۭاور چار چار
    13. يَزِيْدُزیادہ کردیتا ہے
    14. فِي الْخَلْقِپیدائش میں
    15. مَا يَشَآءُ ۭجو وہ چاہے
    16. اِنَّ اللّٰهَبیشک اللہ
    17. عَلٰيپر
    18. كُلِّ شَيْءٍہر شے
    19. قَدِيْرٌقدرت رکھنے والا ہے
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
سب تعریف خدا ہی کو (سزاوار ہے) جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا (اور) فرشتوں کو قاصد بنانے والا ہے جن کے دو دو اور تین تین اور چار چار پر ہیں۔ وہ (اپنی) مخلوقات میں جو چاہتا ہے بڑھاتا ہے۔ بےشک خدا ہر چیز پر قادر ہے
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
حضرت ابن عباس فرماتے ہیں فاطر کی بالکل ٹھیک معنی میں نے سب سے پہلے ایک اعرابی کی زبان سے سن کر معلوم کئے۔ وہ اپنے ایک ساتھی اعرابی سے جھگڑتا ہوا آیا ایک کنویں کے بارے میں ان کا اختلاف تھا تو اعرابی نے کہا انا فطرتھا یعنی پہلے پہل میں نے ہی اسے بنایا ہے پس معنی یہ ہوئے کہ ابتداء بےنمونہ صرف اپنی قدرت کاملہ سے اللہ تبارک و تعالیٰ نے زمین و آسمان کو پیدا کیا۔ ضحاک سے مروی ہے کہ فاطر کے معنی خالق کے ہیں۔ اپنے اور اپنے نبیوں کے درمیان قاصد اس نے اپنے فرشتوں کو بنایا ہے۔ جو پر والے ہیں اڑتے ہیں تاکہ جلدی سے اللہ کا پیغام اس کے رسولوں تک پہنچا دیں۔ اس میں سے بعض دو پروں والے ہیں بعض کے تین تین ہیں بعض کے چار چار پر ہیں۔ بعض ان سے بھی زیادہ ہیں۔ چناچہ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جبرائیل کو دیکھا ان کے چھ سو پر تھے اور ہر دو پر کے درمیان مشرق و مغرب جتنا فاصلہ تھا۔ یہاں بھی فرماتا ہے رب جو چاہے اپنی مخلوق میں زیادتی کرے۔ جس سے چاہتا ہے اس سے بھی زیادہ پر کردیتا ہے اور کائنات میں جو چاہے رچاتا ہے۔ اس سے مراد اچھی آواز بھی لی گئی۔ چناچہ ایک شاذ قرأت فی الحلن " ح " کے ساتھ بھی ہے۔ واللہ اعلم۔