تفسیر ابنِ کثیر
Tafseer Ibn-e-Kaseer · 35. Faatir · Ayah 44
اَوَ لَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَ كَانُوْۤا اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُعْجِزَهٗ مِنْ شَیْءٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ عَلِیْمًا قَدِیْرًا﴿44﴾
- اَوَکیا
- لَمْ يَسِيْرُوْاوہ چلے پھرے نہیں
- فِي الْاَرْضِزمین (دنیا) میں
- فَيَنْظُرُوْاسو وہ دیکھتے
- كَيْفَکیسا
- كَانَہوا
- عَاقِبَةُعاقبت (انجام)
- الَّذِيْنَان لوگوں کا جو
- مِنْ قَبْلِهِمْان سے پہلے
- وَكَانُوْٓااور وہ تھے
- اَشَدَّبہت زیادہ
- مِنْهُمْان سے
- قُوَّةً ۭقوت میں
- وَمَااور نہیں
- كَانَہے
- اللّٰهُاللہ
- لِيُعْجِزَهٗکہ اسے عاجز کردے
- مِنْ شَيْءٍکوئی شے
- فِي السَّمٰوٰتِآسمانوں میں
- وَلَااور نہ
- فِي الْاَرْضِ ۭزمین میں
- اِنَّهٗبیشک وہ
- كَانَہے
- عَلِيْمًاعلم والا
- قَدِيْرًابڑی قدرت والا
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
کیا انہوں نے زمین میں کبھی سیر نہیں کی تاکہ دیکھتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا انجام کیا ہوا حالانکہ وہ ان سے قوت میں بہت زیادہ تھے۔ اور خدا ایسا نہیں کہ آسمانوں اور زمین میں کوئی چیز اس کو عاجز کرسکے۔ وہ علم والا (اور) قدرت والا ہے
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
عبرت ناک مناظر سے سبق لو۔
حکم ہوتا ہے کہ ان منکروں سے فرما دیجئے کہ زمین میں چل پھر کر دیکھیں تو سہی کہ ان جیسے ان سے پہلے کے لوگوں کا کیسا عبرتناک انجام ہوا۔ ان کی نعمتیں چھن گئیں، ان کے محلات اجاڑ دیئے گئے، ان کی طاقت تنہا ہوگئی، ان کے مال تباہ کردیئے گئے، ان کی اولادیں ہلاک کردی گئیں، اللہ کے عذاب ان پر سے کسی طرح نہ ٹلے۔ آئی ہوئی مصیبت کو وہ نہ ہٹا سکے، نوچ لئے گئے، تباہ و برباد کردیئے گئے، کچھ کام نہ آیا، کوئی فائدہ کسی سے نہ پہنچا۔ اللہ کو کوئی ہرا نہیں سکتا، اسے کوئی امر عاجز نہیں کرسکتا، اس کا کوئی ارادہ کامیابی سے جدا نہیں، اس کا کوئی حکم کسی سے ٹل نہیں سکتا۔ وہ تمام کائنات کا عالم ہے وہ تمام کاموں پر قادر ہے۔ اگر وہ اپنے بندوں کے تمام گناہوں پر پکڑ کرتا تو تمام آسمانوں والے اور زمینوں والے ہلاک ہوجاتے۔ جانور اور رزق تک برباد ہوجاتے۔ جانوروں کو ان کے گھونسلوں اور بھٹوں میں بھی عذاب پہنچ جاتا۔ زمین پر کوئی جانور باقی نہ بچتا۔ لیکن اب ڈھیل دیئے ہوئے ہے عذابوں کو موخر کئے ہوئے ہے وقت آ رہا ہے کہ قیامت قائم ہوجائے اور حساب کتاب شروع ہوجائے۔ اطاعت کا بدلہ اور ثواب ملے۔ نافرمانی کا عذاب اور اس پر سزا ہو۔ اجل آنے کے بعد پھر تاخیر نہیں ملنے کی۔ اللہ عزوجل اپنے بندوں کو دیکھ رہا ہے اور وہ بخوبی دیکھنے والا ہے۔