تفسیر ابنِ کثیر

Tafseer Ibn-e-Kaseer · 35. Faatir · Ayah 45

  1. وَ لَوْ یُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوْا مَا تَرَكَ عَلٰى ظَهْرِهَا مِنْ دَآبَّةٍ وَّ لٰكِنْ یُّؤَخِّرُهُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ۚ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِعِبَادِهٖ بَصِیْرًا۠ع﴿45﴾

    1. وَلَوْاور اگر
    2. يُؤَاخِذُ اللّٰهُاللہ پکڑ کرے
    3. النَّاسَلوگ
    4. بِمَا كَسَبُوْاان کے اعمال کے سبب
    5. مَا تَرَكَوہ نہ چھوڑے
    6. عَلٰيپر
    7. ظَهْرِهَااس کی پشت
    8. مِنْ دَآبَّةٍکوئی چلنے پھرنے والا
    9. وَّلٰكِنْاور لیکن
    10. يُّؤَخِّرُهُمْوہ انہیں ڈھیل دیتا ہے
    11. اِلٰٓىتک
    12. اَجَلٍ مُّسَمًّى ۚایک مدت معین
    13. فَاِذَاپھر جب
    14. جَآءَآجائے گی
    15. اَجَلُهُمْان کی اجل
    16. فَاِنَّتو بیشک
    17. اللّٰهَاللہ
    18. كَانَہے
    19. بِعِبَادِهٖاپنے بندوں کو
    20. بَصِيْرًادیکھنے والا
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
اور اگر خدا لوگوں کو ان کے اعمال کے سبب پکڑنے لگتا۔ تو روئے زمین پر ایک چلنے پھرنے والے کو نہ چھوڑتا۔ لیکن وہ ان کو ایک وقت مقرر تک مہلت دیئے جاتا ہے۔ سو جب ان کا وقت آجائے گا تو (ان کے اعمال کا بدلہ دے گا) خدا تو اپنے بندوں کو دیکھ رہا ہے
Tafseer Ibn-e-Kaseer - 35 : 45